پرچون فروشوں کیلئے کیش رجسٹر لازمی قرار دینے پر غور

آئندہ بجٹ میں سپلائزپر0.5 فیصد ودہولڈنگ ختم، ایف بی آر کے اختیارات محدود اور ٹیکس شرح میں تبدیلی پارلیمنٹ منظوری سے۔۔۔


Khususi Reporter April 20, 2013
پی ایس ڈی پی اور سالانہ ترقیاتی منصوبے کے مسودے تیار، اپریل کے آخری ہفتے میں سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں حتمی شکل دی جائے گی، ذرائع فوٹو: آئی این پی / فائل

KARACHI: وفاقی حکومت کی طرف سے آئندہ مالی سال 2013-14 کے وفاقی بجٹ میں دفاع کے لیے 627 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے۔

اس ضمن میں وزارت خزانہ کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ نئے بجٹ میں پی ایس ڈی پی کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے لیے 450 ارب روپے مختص کیے جائیں گے، ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے پرچون فروشوں (ریٹیلرز) کے لیے کیش رجسٹرز کو لازمی قرار دیے جانے کا بھی امکان ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ سپلائز پر عائد 0.5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس مستقل طور پر ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ آئندہ بجٹ میں ایف بی آر کے ایس آر اوز جاری کرنے کے اختیارات ختم کیے جائیں اور جس ٹیکس کی شرح میں جو بھی ردوبدل کرنا مقصود ہو اس کی پارلیمنٹ سے منظوری لی جائے تاکہ ٹیکس سے متعلقہ اقدامات کے بارے میں سیاسی عزم کو یقینی بنایا جا سکے، علاوہ ازیں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس کریڈٹ کی سہولت اور ٹیکس کریڈٹ کی شرح کو بھی بڑھائے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ترجیحی کمیٹی کے اجلاس میں پی ایس ڈی پی اور سالانہ ترقیاتی منصوبے کے مسودے تیار کرلیے گئے ہیں جنھیں حتمی شکل دینے کے لیے سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی کا اجلاس رواں ماہ کے آخری ہفتے میں منعقد ہوگا جبکہ سالانہ منصوبے اور پی ایس ڈی پی کی حتمی منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل(این ای سی) کا اجلاس مئی 2013 کے آخری ہفتے میں وزیراعظم کی زیر صدارت منعقد ہوگا۔ ذرائع کے مطابق ترجیحی کمیٹی کے اجلاس میں ابتدائی طور پر دی جانے و الی منظوریوں کے تحت آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی وزارتوں کے ترقیاتی پروگراموں کے لیے 259 ارب روپے مختص کیے گئے جو موجودہ مالی سال کے لیے مختص کردہ 206.5 ارب روپے سے 25 فیصد زیادہ ہیں۔



بجٹ میں پانی کے شعبے میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے بجٹ کے رقم 4.7 ارب روپے سے بڑھا کر 64 ارب روپے کر دی گئی ہے، وزارت پانی و بجلی واپڈا کے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر 39 ارب روپے خرچ کرے گی جبکہ پہلے یہ رقم 26ارب روپے تھی، اس طرح پانی و بجلی کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 103 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے مختص کردہ رقم کا 23 فیصد ہے۔

پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کو ایٹمی توانائی کے منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے جو موجودہ مالی سال کے لیے مختص 39 ارب روپے سے 38.5 فیصد زیادہ ہے، آئندہ مالی سال پانی اور توانائی کے منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 157 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جو موجودہ مالی سال کے لیے مختص 115 ارب روپے سے 42 ارب روپے زیادہ ہے۔

ملک کے خصوصی ایریاز جن میں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور فرنٹیر ایجنسیز شامل ہیں کے لیے آئندہ مالی سال 46.6 ارب کی رقم مختص کر دی گئی ہے جو موجودہ مالی سال کے لیے مختص کردہ 36 ارب روپے سے زیادہ ہے، بجٹ میں ایرا کے لیے مختلف منصوبوںکی تکمیل کے سلسلے میں 13.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو 2005 کے تباہ کن زلزلے اور مالاکنڈ ڈویژن میں فوجی کارروائیوں کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کے لیے مختلف منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں