ایف بی آر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد نہ کرے وزارت پانی و بجلی

کمپنیوں کے شدید مالی مسائل کے نتیجے میں لوڈ شیڈنگ بہت زیادہ بڑھ جائیگی، وزارت کا چیئرمین ایف بی آر کوخط.


Irshad Ansari April 22, 2013
5 ارب روپے کے ریفنڈز بھی ادا کردیے جائیں،کمپنیوں کے شدید مالی مسائل کے نتیجے میں لوڈ شیڈنگ بہت زیادہ بڑھ جائیگی، وزارت کا چیئرمین ایف بی آر کوخط. فوٹو: فائل

ISLAMABAD: وزارت پانی و بجلی نے مالی مشکلات کے باعث بجلی کا بحران شدت اختیار کرنے کے خوف سے فیڈرل بورڈ ایف ریونیو(ایف بی آر) کو ٹیکس واجبات کی عدم ادائیگی پر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بینک اکاونٹس منجمد نہ کرنیکی درخواست کردی ہے اور کہا ہے کہ اگر کسی کمپنی کے اکاونٹس منجمد کیے گئے ہیں تو وہ بحال کیے جائیں جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو 5 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔

اس ضمن میں ایکسپریس،،کو دستیاب دستاویز کے مطابق وزارت پانی و بجلی کے سیکریٹری کی طرف سے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو لیٹر لکھا گیا ہے جس میں 29مارچ 2013 کو وزارت پانی و بجلی کے ڈی او لیٹر نمبری 2(03)/2012/PF کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو انکے ریفنڈز کے واجبات میں سے 5 ارب روپے عبوری طور پر جاری کیے جائیں۔

اس کے علاوہ ایف بی آر سے کہا گیا ہے کہ تمام فیلڈ فارمشنز کو ہدایت کی جائے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بینک اکاونٹس منجمد نہ کیے جائیں کیونکہ فیلڈ فارمشنز کی طرف سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے کلیم کردہ جنرل سیلز ٹیکس واجبات کی وصولی کیلیے شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور بعض بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بینک اکاونٹس منجمد بھی کیے جارہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کیلیے شدید قسم کے مالی مسائل پیدا ہوجائیں گے جس کے نتیجے میں ملک بھر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ بہت زیادہ بڑھ جائیگی۔

لیٹر میں ایف بی آر سے کہا گیا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور ایف بی آر کے درمیان سیلز ٹیکس کے حوالے سے چونکہ تنازعہ چلا آرہا ہے اس لیے جب تک یہ تنازعہ حل نہیں ہوجاتا اس وقت تک کو کاروائی عمل میں نہ لائی جائے علاوہ ازیں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ساتھ حکومت کی طرف سے بجلی پر دی جانیو الی سبسڈی پر جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ، بجلی کی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کی مد میں ہونے والے نقصان پر جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ، پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت شروع کیے جانیوالے بجلی کے ترقیاتی منصوبوں اور دیہاتوں کو بجلی کی فراہمی کے منصوبوں و بجلی کے نئے کنکشن کی فراہمی پر سیلز ٹیکس کے حوالے سے جاری تنازعات کو حل کرنے کیلیے نوٹیفکیشن جاری کیے جائیں۔



 

اس کے علاوہ حکومت آزاد جموں و کشمیر کو فراہم کی جانے والی بجلی پر جنرل سیلز ٹیکس سے چھوٹ کے حوالے سے بھی ایس آر او جاری کیا جائے۔ لیٹر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں(جینکوز) کی طرف سے ادا کردہ کپیسٹی چارجز پرسیلز ٹیکس کا معاملہ بھی طے کرے اور اس بارے بھی نوٹیفکیشن جاری کرے جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 4.5 ارب روپے کے سیلز ٹیکس واجبات کی عدم ادائیگی پر آئیسکو کے بینک اکاونٹس منجمد کر رکھے ہیں اور آئیسکو کے یو بی ایل بینک کے اکاونٹ سے 60 لاکھ روپے زبردستی نکلوالیے ہیں جبکہ آئیسکو حکام کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بینک اکاونٹس منجمد کیے ہیں۔

آئیسکو نے تمام بینکوں کو عدالت سے حاصل کردہ حکم امتناعی کا کاپیاں بھجوادی ہیں جس کے باعث دیگر بینکوں میں آئیسکو کے اکاونٹس سے بینکوں نے ایف بی آر کو زبردستی پیسے نہیں نکالنے دیے۔ انہوں نے بتایا کہ حکم امتناعی کاپیاں دکھانے پر نیشنل بینک کے علاوہ دیگر تمام بینکوں نے اکاونٹس بحال کردیے ہیں اور نیشنل بینک نے بھی پیر سے اکاونٹس بحال کرنے کی یقین دہانی کروادی ہے تاہم اس بارے میں ایف بی آر کا موقف جاننے کیلیے ایف بی آر کی ترجمان رفعت شاہین قاضی سے موبائل فون پر رابطہ کیا گیا جو انہوں نے اٹینڈ نہیں کیا جبکہ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آئیسکو کی طرف سے آزاد جموں و کشمیر کو فراہم کی جانے والی بجلی پر سیلز ٹیکس کی مد میں اور آئیسکو کی طرف سے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی پر سیلز ٹیکس کی مد میں ساڑھے 4 ارب روپے کے واجبات جمع کروانے کا نوٹس بھجوایا تھا جو کہ آئیسکو نے جمع نہیں کروائے جس کے باعث تمام قانونی تقاضے پورے کرکے ٹیکس قوانین کے تحت بینک اکاونٹس منجمد کیے گئے ہیں۔

آئیسکو حکام کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے غیر قانونی طور پر آئیسکو کے بینک اکاونٹس منجمدکیے ہیں کیونکہ حکومت پاکستان نے سال 2003 میں خود حکومت آزاد جمو و کشمیر سے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت آزاد جموں و کشمیر کو برآمد کی جانیو الی بجلی کو سیلز ٹیکس سے مُستثنٰی قرار دیا ہوا ہے اور اس بارے میں اسلام آباد ہائیکورٹ بھی آئیسکو کے حق میں فیصلہ دے چُکی ہے جبکہ سبسڈیز پر سیلز ٹیکس کے حوالے سے آئیسکو نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کررکھا ہے مگر اسکے باوجود ایف بی آر نے بینک اکاونٹس منجمد کیے ہیں جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ آئیسکو حکام کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم امتناعی کی کاپی کی فراہمی کے بعد تمام بینکوں نے آئیسکو کے اکاونٹس بحال کردیے ہیں تاہم نیشنل بینک نے ابھی بحال نہیں کیے ہیں اور یقین دہانی کروائی ہے کہ پیر سے نیشنل بینک بھی اکاونٹس بحال کردے گا۔