کراچی کا انتخابی ماحول لمحہ فکریہ

یہ ملکی معیشت کی شہ رگ سڑکیں اور چوراہے ہیں جن کی الیکشن سے پہلے پلاننگ کے ساتھ بندش المیہ ہوگا ۔


Editorial April 25, 2013
لياري كے علاقے ميں تين افرادكي ہلاكت كے خلاف لي ماركيٹ پر مشتعل افرادہنگامہ آرائي كررہے ہيں. فوٹو راشداجمیری/ ایکسپریس

انتخابی مہم کسی بھی جمہوری ملک میں عوام کی رائے دہندگی کے حق کا حسن ہوتا ہے۔11 مئی کو الیکشن ہونے ہیں لیکن معاصر اخبارات وجرائد کے تجزیوں،رپورٹوں کے ساتھ ساتھ شہر میں جرائم کی وارداتوں کی لہر اٹھنے سے کاروباری اور معمول کی زندگی کو شدید دھچکا لگا ہے۔ علاقوں میں فائرنگ، مسلح افراد کے موٹر سائیکلوں پر گشت سے ووٹرز ہراساں کیے جارہے ہیں ۔

مشاہد ے میں آیا ہے اور واقعات بھی جس منصوبہ بندی سے رونما ہورہے ہیں اس کی روشنی میں عوامی اور سیاسی حلقوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ کراچی میں بعض نادیدہ قوتوں کی سرگرمیاں خلفشار پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں جس کا مقصد شہر کو وقفہ وقفہ سے بند کرکے ووٹرز کو الیکشن سے بدگمان کرنا ہے۔ ارباب اختیار کو ان عناصر کی سرگرمیوں کا فوری نوٹس لینا چاہیے کیونکہ مختلف طریقوں سے کراچی کی تجارتی ،کاروباری اور معمول کی معاشی سرگرمیاں اچانک معطل کی جاتی ہیں، قتل وغارت کے بعد دکانیں بند کرانے کے لیے گینگ فعال ہوجاتے ہیں جب کہ پولیس اور رینجرز کہیں نظر نہیں آتی۔

بدھ و جمعرات کی شب مسلح افراد نے ماڑی پور روڈ کو آئی سی آئی برج سے گلبائی تک بند کردیا۔ کسی نے روکا تک نہیں۔ واضح رہے کہ راتوں رات ٹرکوں ، ڈمپروں، ٹریلرزاور کرینوں کو پیپلز فٹبال کمپلیکس کے سامنے لایا گیا جہاں رینجرز کا ہیڈکوارٹر ہے اور آئی سی آئی پل سے متصل کے پی ٹی گراؤنڈ کے ساتھ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کا دفتر اور ڈاکس تھانہ بھی ہے۔ کراچی کی 65 فی صد اقتصادی،تجارتی اور کاروباری راہداری اور گڈزمال اور افرادی قوت کی نقل حمل ان علاقوں کی شاہراہوںسے ہوتی ہے ۔ بندرگاہ سے فیول کی ملک کے بالائی حصوں کو ترسیل کے لیے لیاری ایکسپریس وے بھی ان عناصر کی زد میں ہے۔معاشی مبصرین کے مطابق ٹاور صدر اور بولٹن مارکیٹ دوچار دن بند ہوجائے تو دو کھرب کے لگ بھگ کا نقصان حکومت اور کاروباری طبقے کو پہنچ سکتا ہے۔

یہ ملکی معیشت کی شہ رگ سڑکیں اور چوراہے ہیں جن کی الیکشن سے پہلے پلاننگ کے ساتھ بندش المیہ ہوگا ۔ اب تک سیکڑوں تاجر کاروبار بند کرکے کراچی سے منتقل ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نامعلوم مسلح عناصر کی کوشش ہے کہ نیپا چورنگی، قائد آباد ، سہراب گوٹھ ، بنارس، قیوم آبادفلائی اوورز، پنجاب چورنگی، تین تلوار، بوٹ بیسن، نیٹی جیٹی،آئی سی آئی پل پر ٹریفک ہر روز اس طرح روکی جائے کہ اس پر محض ٹریفک جام کا تاثر ابھرے جب کہ یہ کام طے شدہ مکروہ ایجنڈے کے تحت ہونے جارہا ہے جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو روکنا ہوگا ۔

اس بلاکیڈ کا مطلب یہ ہوگا کہ ٹاورسے ملحقہ بندرگاہ، فش ہاربر، کسٹم آفسز ، شیرشاہ، سائٹ کے صنعتی علاقے شہر سے کٹ جائیں گے اور ہاکس بے اور کیماڑی تک رسائی بھی معطل ہوگی ۔ایک طرف اس بات کا اعادہ کیا جارہا ہے کہ انتخابات ملکی معیشت ،سیاست، طرز حکمرانی میں انقلابی تبدیلیوں کی نوید دیں گے ۔دوسری جانب انتخابی مہم کی رونقیں ماند ، ووٹرز میں جوش وخروش ، کارنر میٹنگز اور کنوینسنگ کی آزادی کا فقدان نظر آتا ہے۔گزشتہ چند روز سے بعض عناصر ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ اب مخالف سیاسی جماعتوں کے انتخابی امیدواروں کے دفاتر پر حملوں میں شدت لارہے ہیں، نسلی،لسانی،قومیتی ، مذہبی و مسلکی بنیادوں پر لٹریچر کی تقسیم زوروں پر ہے۔

انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کی ضرورت ہے تاکہ الیکشن روادارانہ اور پر امن ماحول میں ہوسکیں۔ سیکیورٹی پلاننگ کے اقدامات خوش آیند تو ہیں تاہم شہر میں گینگز ترتیب دیے جانے کی تشویش ناک اطلاعات گردش میں ہیں،اور جرائم پیشہ عناصر نے بعض علاقوں کو نو گو ایریا بنادیا ہے ، ہلاکتیں جاری ہیں ۔ ووٹرز کو مختلف طریقوں سے خوف وہراس میں مبتلا کیا جارہا ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ لانڈھی،کورنگی،لیاری، منگھوپیر،کیماڑی، ماڑی پور ، گلشن ، گلستان جوہر ، بنارس، سرجانی،سہراب گوٹھ، گارڈن، اورنگی ،لانڈھی ، کورنگی، سعید آباد ،ملیر سمیت حساس علاقوں میں فورسز کی رات دن تعیناتی جلد عمل میں لائی جائے تاکہ شہر میں امن بحال ہو۔ورنہ انتخابات کی بساط الٹنے کی کوشش میں منی پاکستان کو اقتصادی سقوط ، سیاسی بے چینی اور سماجی انارکی کی نذر کرنیکی سازش ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔