اغوا کیسایس ایچ او گلشن ودیگرافسران کے خلاف مقدمہ درج کرنیکاحکم

عرفان اوراس کے ساتھیوں نے ساجد کو اغوا کر کے ایک لاکھ روپے تاوان طلب کیا.


Staff Reporter April 28, 2013
نوجوان کے قتل میں ملوث رینجرز افسران کیخلاف بھی مقدمہ درج کیا جائے،عدالت. فوٹو: فائل

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی شاہ نواز طارق نے مسماۃ بشریٰ کی درخواست پر ایس ایچ او گلشن اقبال و دیگر پولیس افسران کے خلاف بیان کے مطابق مقدمہ درج کرنیکا حکم دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق درخواست گزار کے وکیل ناصر احمد ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا تھا کہ تھانہ گلشن اقبال کے ایس ایچ او عرفان، سب انسپکٹر عبدالرحمن میرانی اور حوالدار اسد نے اپنےاختیارات کا ناجائزاستعمال کرتے ہوئے تھانہ مومن آباد کے حدود کے رہائشی ساجد کےگھر میں متعلقہ تھانےکومطلع کیےبغیر داخل ہوئے اور اسے اغوا کرنے کے بعد اہل خانہ سے ایک لاکھ روپے تاوان طلب کیا تھا، رقم کی عدم ادائیگی پر تھانے میں اس پر شدید تشدد کیا گیا جبکہ تھانہ ماڈل کالونی میں مغوی کے خلاف اسلحہ ایکٹ کا جھوٹا مقدمہ درج کرایا گیا۔



واقعے کے فوری بعد تحریری درخواست متعلقہ تھانے اور عدالت کو دی گئی تھی جس پر عدالت نے مذکورہ تھانے میں چھاپہ مارا تھا تاہم مخبری کے باعث شہری کو منتقل کردیا گیا تھا، فاضل عدالت سے مذکورہ پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی تھی، دریں اثنا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی شاہد شفیق نے مسماۃ زرینہ کی درخواست پر تھانہ کلری کو خاتون کے بیان کے مطابق رینجرز کے افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے تاہم اس وقت تک انھیں گرفتار نہ کرنے کی کہا ہے جب تک پولیس کو رینجرز کے افسران کے خلاف شواہد موصول نہ ہوجائیں۔

قبل ازیں درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ21 اپریل کو رینجر کے کرنل عامر، کرنل حسن و دیگر اہلکاروں نے اہل محلہ کی موجودگی میں اس کے بھائی فہیم کو زبردستی اغوا کیا تھا اوراس کی رہائی کیلیے تاوان طلب کیا تھا، ان کے انکار پر22 اپریل کو اسے قتل کردیا تھا اور فون پر اطلاع دی تھی کہ تاوان نہ دینے پر اسے قتل کردیا ہے اور لاش حوالے کردی جس کی فوری اطلاع تھانہ کلری کو دی گئی تھی لیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی، درخواست میں تھانہ کلری کے ایس ایچ او کو مذکورہ افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

مقبول خبریں