مومن آباد بم دھماکاڈاکٹر عزیز الدین سمیت 10 افراد سپردخاک

محسن شامزئی مواچھ گوٹھ قبرستان،دیگر افرادکی اورنگی ٹائون کے قبرستان میں تدفین.


Staff Reporter April 28, 2013
فضل الٰہی / فیاض خان ۔ فوٹو : ساجد رؤف / ایکسپریس

مومن آباد میں دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے بم دھماکے میں جا ں بحق ہونیوالے شہید مفتی نظام الدین شامزئی کے بڑے بھائی ڈاکٹر عزیز الدین شامزئی اور ان کے نواسے محسن شامزئی کو مواچھ گوٹھ قبرستان جبکہ جاں بحق ہونے والے دیگر افراد کو اورنگی ٹائون کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیاگیا۔

دھماکے میں زخمی ہو کر دوران علاج جاں بحق ہونیوالے نوجوان کی میت آبائی علاقے چار سدہ روانہ کردی گئی،تفصیلات کے مطابق جمعے کو مومن آباد تھانے کی حدود میں واقع عوام کالونی میں دہشتگردوں کی جانب سے کیے جانیوالے خوفناک بم دھماکے میں جاں بحق ہونیوالے عالم دین شہید مفتی نظام الدین شامزئی کے بڑے بھائی ڈاکٹر عزیز الدین شامزئی ولد حبیب الدین اور ان کے نواسے محسن شامزئی ولد مفتی احسن ، امین ولد پیرزادہ ، حمید ولد اختر گل ، انور زیب ولد مظفر خان ، فضل الٰہی ولد نور ملک، اعظم ولد گل ، فیاض خان ولد نوررحمن اورعطاالرحمن ولد بخت زمین سمیت دیگر افراد کی نماز جنازہ مومن آباد قائد عوام کالونی میں واقع شاہی مسجد کے قریب ادا کی گئی ۔



نماز جنازہ میں مقتولین کے اہلخانہ ، عزیز و اقارب ، عوا می نیشنل پارٹی ، جمعیت علمائے اسلام کے عہدیداران اور کارکنان سمیت علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی،نماز جنازہ کے بعد مقتول ڈاکٹر عزیز الدین شامزئی اور ان کے نواسے محسن شامزئی کی میت مواچھ گوٹھ قبرستان لے جائی گئی جہاں انہیں سپرد خاک کردیا گیا، دھماکے میں جاں بحق ہونے والے دیگر افراد کو اورنگی ٹائون کے علاقے بجلی نگر میں واقع مقامی قبرستان میں سیکڑوں سوگواران کی موجودگی میں سپرد خاک کردیا گیا جبکہ بم دھماکے میں زخمی ہو کر دوران علاج دم توڑ جانے والے 20 سالہ حمید ولد اختر کی میت آبائی علاقے چار سدہ روانہ کردی گئی ہے۔

اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کراچی کے امیر قاری عثمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نگراں حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی، انھوں نے کہا کہ اربوں روپے کے فنڈز قانون نافذ کرنیوالے اداروں پر خرچ کیے جاتے ہیں اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

ہر بم دھماکے کے بعد کوئی اس کی ذمے داری قبول کرلیتا ہے،ان کا کہنا تھا کہ اتنا بارودی مواد یہاں تک کیسے پہنچا اور اگر یہ بارودی مواد کراچی میں تھا تو قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے کارروائی کیوں نہیں کی ،حکومت کو اس معاملے کی تہہ تک جانا چاہیے۔

مقبول خبریں