ریونیو شارٹ فال ایف بی آرنے اربوں کے ریفنڈز روک لیے

جولائی تا اپریل37فیصدکمی سے78ارب کی ادائیگی،گزشتہ مالی سال 125 ارب دیے تھے


Irshad Ansari May 03, 2013
انکم ٹیکس48 اورسیلزٹیکس ریفنڈز میں 27.9 فیصد کمی،وجہ شارٹ فال میں اضافہ ہے،حکام۔ فوٹو: فائل

رواں مالی سال 2012-13کے دوران ریونیو شارٹ فال میں اضافے کے باعث فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی طرف سے ٹیکس دہندگان کے اربوں روپے کے ریفنڈز روکنے کا انکشاف ہوا ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ (جولائی تا اپریل 2012-13)کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس دہندگان کو ری بیٹ اور ریفنڈز کی مد میں مجموعی طور پر 78.323ارب روپے کی ادائیگی کی جو گزشتہ مالی سال کے دوران اس مد میں کی جانے والی 125.152 ارب روپے کی ادائیگیوں سے 37.4 فیصد کم ہیں۔

اس بارے میں جب ایف بی آر حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں مقرر کردہ 2381 ارب روپے کے ہدف کے حساب سے ٹیکس وصولیوں میں شارٹ فال 240 ارب روپے سے تجاوز کرگیا ہے جبکہ زبانی طور پر مقرر کردہ 2190 ارب روپے کے نظرثانی شدہ ہدف کے حساب سے یہ شارٹ فال 140ارب روپے سے زائد ہے اور اگر ریفنڈز کو روکا نہ جاتا تو یہ شارٹ فال بہت زیادہ ہوجانا تھا جس سے اقتصادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہونے کا خطرہ تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریونیو شارٹ فال میں اضافے کی وجہ سے رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ کے دوران ٹیکس دہندگان کو دیے گئے ریفنڈز میں سال بہ سال کمی ہوئی جبکہ معمول کے حالات میں ہر سال ریفنڈز میں کچھ نہ کچھ اضافہ ضرور ہوتا ہے۔



دستاویز کے مطابق جولائی تااپرپل کے دوران ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس کی مد میں 48 فیصد کمی سے 41.023 ارب روپے کے ریفنڈ جاری کیے گئے جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں 78.914 ارب روپے کے ریفنڈزدیے گئے تھے، گزشتہ 10ماہ میں سیلز ٹیکس کی مد میں27.327 ارب روپے کے ریفنڈ جاری کیے گئے جو گزشتہ مالی سال میں جاری کردہ 37.913 ارب روپے کے ریفنڈز سے 27.9فیصد کم ہیں، اسی طرح فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ٹیکس دہندگان کو39.80 کروڑ روپے ریفنڈ کیے گئے جو گزشتہ مالی سال میں22 کروڑروپے کے ریفنڈز سے 80.9 فیصد زیادہ ہیں، گزشتہ 10 ماہ میں کسٹمز ڈیوٹی کی مد میںری بیٹ کی مد میں 9.575 ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئیں جو گزشتہ مالی سال میں 8.104ارب روپے کی ادائیگیوں سے 18.2 فیصد زیادہ ہیں۔