خوشی ہے صفدر نے شیر کی طرح گرفتاری دی، مریم نواز

ویب ڈیسک  اتوار 8 جولائ 2018
کچھ لوگ کمر درد کا بہانہ بناکر ملک سے بھاگ کر لندن آجاتے ہیں، مریم نواز۔ فوٹو : فائل

کچھ لوگ کمر درد کا بہانہ بناکر ملک سے بھاگ کر لندن آجاتے ہیں، مریم نواز۔ فوٹو : فائل

 لندن: سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ خوشی ہے کہ صفدر نے شیر کی طرح گرفتاری دی، مجھے بے نظیر سے نہ ملایا جائے میری اپنی الگ پہچان ہے۔

لندن میں میڈیا سے گفتگو کے دوران مریم نواز نے کہا کہ خوشی ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر نے دلیرانہ طریقے سے شیر کی طرح گرفتاری دی، گرفتاری کیا، کوئی بھی قربانی دینا پڑی تو دیں گے کیوں کہ ہم اور کروڑوں لوگ ’’ووٹ کوعزت دو‘‘ کے جھنڈے تلے مارچ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کو ووٹ ڈال کر  عوام نواز شریف سے ہونے والی ناانصافیوں کا بدلہ لیں گے، عوام اب خود میاں صاحب کی مہم چلائیں گے کارکنوں کو کال دینے کی کوئی ضرورت نہیں، عوام خود میاں نواز شریف کے ساتھ ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان ہوں یا ان کے ماسٹرز، سب کے ہاتھ سے کھیل نکل چکا ہے اور عمران خان کی ڈوریاں ہلانے والوں کے ہاتھ پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں رہے گا۔

صحافی کی جانب سے بے نظیر ثانی کہلوانے کے سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں بے نظیر بھٹو کی عزت کرتی ہوں ان کی ایک جدوجہد ہے لیکن میرا ان کے ساتھ موازنہ درست نہیں، میں مریم نواز ہوں اور میری پہچان مسلم لیگ (ن) ہے۔

قبل ازیں لندن میں ایک اور میڈیا گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہم چند روز میں لاہور آرہے ہیں، لوگ سزا سے بچنے کے لیے ملک سے باہر جاتے ہیں لیکن ہم گرفتاری دینے پاکستان آرہے ہیں، نواز شریف نے گرفتاری دینے کے فیصلے سے نئی روایت قائم کردی، ہماری قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، قربانی ہم دیں گے اور اس کا فائدہ آنے والی نسلوں اور قوم کو ہوگا۔

رہنما مسلم لیگ (ن) مریم نواز کا کہنا تھا کہ ووٹ کو عزت دو کی تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، میں اور نواز شریف پاکستان میں جمہوریت کے حامیوں کی نمائندگی کررہے ہیں، ہم جمہوریت دیکھنے والوں کی لڑائی لڑیں گے۔

مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف نے قدم بڑھا دیا ہے اور قوم ان کے پیچھے ہے، کچھ لوگ کمر درد کا بہانہ بناکر ملک سے بھاگ کر لندن آجاتے ہیں، ایسے بھی لیڈر ہیں جنہوں نے سزا سے بچنے کے لیے پاکستان سے باہر رہنے کو ترجیح دی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔