ثنااللہ کی ہلاکت کوٹ بھلوال جیل میں پاکستانی قیدیوں کا مظاہرہ

ثنا اللہ کا قتل انتہائی شرمناک ہے، انسانی حقوق کی تنظیم ،عدالتی تحقیقات کامطالبہ


APP May 11, 2013
سیالکوٹ :بھارتی جیل میں قیدیوں کے تشدد سے ہلاک ہونیوالے ثنا اللہ کی نماز جنازہ ادا کی جارہی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

مقبوضہ کشمیرکی کوٹ بھلوال جیل جموں میںپاکستانی قیدی ثنا اللہ پر قاتلانہ حملے اور بعدازاں ان کی وفات کے بعد جیل میںقیدیوںنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور بھارت مخالف نعرے بلند کیے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جیل انتظامیہ نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ۔ جیل میں ثنا اللہ پر قاتلانہ حملے اور بعد ازاں اسپتال میں ان کے انتقال پر کوٹ بھلوال جیل میں پاکستانی نظربندوں اور بھارتی قیدیوں کے درمیان تلخ کلامی کے واقعات بھی پیش آئے۔ پاکستانی قیدیوں نے ثنا اللہ کی وفات پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ جیل کے ایک افسر نے بھارتی خبر ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا ہے کہ پاکستانی قیدیوںنے کل دوپہر کا کھانا نہیں کھایا ہے اوران سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ادھرمحکمہ جیل خانہ جات کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا ہے کہ ثنا اللہ کے زیر استعمال 27اشیا جائے نماز،کپڑے ،کنگھی، سلیپر اور روز مرہ استعمال کی دیگر اشیا چندی گڑھ بھجوا دی گئی ہیں۔

ادھر انسانی حقوق کی تنظیم ایشین سینٹر فار ہیومن رائٹس ( اے سی ایچ آر) نے بھارت کو پاکستانی قیدیوں کی سلامتی اور تحفظ میں ناکامی کا ذمے دار ٹھہراتے ہوئے پاکستانی قیدی ثنا اللہ کے حراستی قتل کے حوالے سے انڈین نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن میں ایک عرضداشت دائر کر دی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اے سی ایچ آر نے انڈین نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن سے کہا ہے کہ وہ بھارتی حکومت پردبائو ڈالے کہ ثنا اللہ کے قتل کی عدالتی تحقیقات کرا ئی جائے اور تحقیقاتی رپورٹ ایک ماہ کے اندر اندر عوام کے سامنے لائی جائے ۔ ایشین سینٹر فار ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ ثنا اللہ کا حراستی قتل انتہائی شرمناک ہے ۔