اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ میں نقل و ایجنٹ مافیا نے جعلی ایڈمٹ کارڈ جمع ہونے پر افسران اور ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
تفصیلات کے مطابق انٹربورڈ کراچی کے سالانہ امتحانات برائے 2026ء کیلئے آن لائن امتحانی فارمز جمع کروانے کی آخری تاریخ ختم ہوچکی تھی مگر ایجنٹ مافیا اور بیرونی عناصر زبردستی امتحانی فارمز جمع کروانے کی کوشش کررہے تھے۔
ترجمان کے مطابق بورڈ حکام نے جب امتحانی فارمز قبول کرنے سے انکار کیا تو مذکورہ عناصر اور ایجنٹ مافیا نے بورڈ کے عملے پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں کئی افسران اور ملازمین شدید زخمی ہوئے۔
اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام، بالخصوص ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ انٹربورڈ کراچی اور امتحانی مراکز پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
ترجمان اعلیٰ ثانوی بورڈ نے سوشل میڈیا پر زیر گردش ان خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا جارہا تھا کہ بورڈ کے افسران اور ملازمین نے طالب علموں کو تشدد کا نشانہ بناکر لہو لہان کردیا۔
ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کی خبروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور یہ محض ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش ہے۔
دوسری جانب سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) اور سندھ ٹیچرز فورم ایسوسی ایشن نے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
سپلا کے صدر پروفیسر منور عباس اور دیگر عہدیداروں نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی پر ایجنٹ مافیا کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان غنڈہ عناصر کو لگام دی جائے۔
سپلا کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ وہی غنڈا عناصر ہیں جو بورڈ اف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن میں ہر آنے والے طالب علموں سے بھتہ وصول کرتے اور امتحانات کے زمانے میں مختلف کالجز میں نقل نہ کرانے پر اساتذہ کے اوپر حملہ آ ور ہوتے رہے ہیں۔
سپلا کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ یہ حملہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن پر نہیں بلکہ تعلیم پر حملہ ہے اور تعلیم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے جسے کسی بھی طور قبول نہیں کیا جا سکتا۔
سپلا کے رہنماؤں نے مزید یہ بھی کہا کہ ایجنٹ مافیا کے ایما پر ایسے طلبہ کے امتحانی فارم جمع کرنے پر انٹرمیڈیٹ بورڈ پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا جو یا تو اس شہر میں ہی موجود ہی نہیں اور عین ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی بیرون ملک میں موجود ہو اور ان کے امتحانات انٹر بورڈ سے دلوانے کے لیے امتحانی فارم جمع کروائے جا رہے ہوں۔
بورڈ کے عملے کے انکار پر ان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو کہ قابلِ مذمت عمل ہے۔ سپلا کے رہنماؤں نے وزیر جامعات اور بورڈ سے مطالبہ کیا کہ کراچی بورڈ کے عملے کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ساتھ میں ان غنڈہ گرد عناصر کی بیخ کنی کی جائے۔
اُدھر سندھ ٹیچرز فورم کے مرکزی عہدیداران پرفیسر عزیز احمد مدنی، پروفیسر نعیم خالد، پروفیسر ندیم بیگ، پروفیسر زوبیہ باسط، پروفیسر عدنان شاہد نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی میں بیرونی عناصر اور ایجنٹ مافیا کی غنڈہ گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ایجنٹ مافیا کی جانب سے کی جانے والی ہنگامہ آرائی کے باعث وہاں موجود طلبہ، اساتذہ اور ملازمین میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ ترجمان نے کہا کہ سندھ ٹیچرز فورم اس بات کو بخوبی سمجھتی ہے کہ بعض عناصر طلبہ سے بھاری رقوم وصول کرکے ان کے فارم جمع کرانے کے نام پر مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جو تعلیمی اداروں کے ماحول کو خراب کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ اور والدین کے استحصال میں بھی ملوث ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے غنڈہ عناصر اور ایجنٹ مافیا کے بورڈ آفس میں داخلے پر فوری پابندی عائد کی جائے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ کل سے شروع ہونے والے امتحانات کے پیش نظر حکومت سندھ، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بورڈ آفس اور امتحانی مراکز پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائیں تاکہ اساتذہ، طلبہ اور عملے کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے اور امتحانی عمل پرامن ماحول میں جاری رہ سکے۔