جماعت اسلامی نے وفاقی بجٹ میں کراچی کیلئے ناکافی فنڈز مختص کرنے پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ نے ادارہ نورِ حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی بجٹ میں کراچی کے مسائل پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ وفاقی بجٹ میں 3 ہزار 256 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا گیا، جس میں سے کراچی نے تقریباً 80 فیصد حصہ دیا، مگر شہر کو اس کا مناسب حق نہیں دیا جا رہا، وفاقی بجٹ میں کراچی کا حصہ مار دیا گیا۔
سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ کراچی کا تقریباً 3 ہزار ارب روپے کا حصہ نظر انداز کیا گیا ہے حالانکہ شہر وفاقی ریونیو میں 62 فیصد سے زیادہ حصہ ادا کرتا ہے، گرین لائن منصوبے کے لیے 6 ارب روپے درکار تھے لیکن بجٹ میں صرف 1.6 ارب روپے مختص کیے گئے جو شہر کے ساتھ ناانصافی ہے، وفاقی حکومت کراچی کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم نے ملکر بجٹ پیش کیا، ان دونوں جماعتوں نے شہر کے لیے منافقانہ رویہ رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں پانی کی شدید قلت، خراب انفراسٹرکچر، کچرے کے مسائل اور نامکمل ترقیاتی منصوبے شہریوں کے لیے بڑی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اردو یونیورسٹی کے اساتذہ کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جامعہ کراچی کے مسائل اور طلبہ کے وظائف کی بندش بھی قابل تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھابیجی پائپ لائن میں بار بار خرابی اور شہری اداروں کی ناکامی صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔
سیف الدین ایڈووکیٹ نے یہ بھی کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 815 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں لیکن اس میں شفافیت پر سوالات موجود ہیں۔ اس پروگرام میں کرپشن ہورہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت ہر ٹاؤن کے لیے کم از کم 5 ارب روپے فنڈز مختص کرے تاکہ مقامی سطح پر ترقیاتی کام بہتر انداز میں کیے جا سکیں۔ جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینز کم فنڈز میں کام کررہے ہیں۔