محکمہ غیرمنقولہ جائیداد کے قیام کا نوٹیفکیشن نہ ہوسکا

کام جاری ہے،ابتدائی مسودہ جلد تیار کرکے وفاقی کابینہ کو بھجوایا جائیگا،ایف بی آرذرائع


Irshad Ansari July 31, 2018
کام جاری ہے،ابتدائی مسودہ جلد تیار کرکے وفاقی کابینہ کو بھجوایا جائیگا،ایف بی آرذرائع۔ فوٹو : فائل

وفاقی حکومت کی جانب سے ایک ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود غیرمنقولہ جائیداد کی مس ڈیکلریشن روکنے،کم ویلیو ظاہر کرنے والوں کی جائیداد زبردستی خریدنے کے لیے ڈائریکٹریٹ جنرل غیرمنقولہ جائیداد کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) حکام کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹریٹ جنرل غیر منقولہ جائیداد اور ڈائریکٹریٹ جنرل ویلیو ایشن کے ساتھ غیرمنقولہ جائیداد کے ٹیکس تنازعات حل کرنے کے لیے الگ سے اپیلٹ ٹربیونل کے قیام پر بھی کام جاری ہے اور ابتدائی مسودہ جلد تیار کرلیا جائے گا جسے منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھجوایا جائے گا اور وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد باقاعدہ نوٹیکیشن جاری ہوں گے۔

ایف بی آر ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے فنانس ایکٹ 2018 میں اس حوالے سے باقاعدہ قانون متعارف کرایا ہے جس پر عمل درآمد کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کام شروع کر دیا ہے اور اس کے لیے سمری کی منظوری ملنے کے بعد نوٹیفکیشن جاری ہوگا اور اس نئے ادارے کے لیے منظور ہونے والی آسامیوں اور بجٹ مختص کیے جانے کے بعد اسے آپریشنل بنایا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک غیرمنقولہ جائیداد کے لیے الگ سے ڈائریکٹوریٹ جنرل قائم نہیں ہوجاتا اس وقت تک غیرمنقولہ جائیداد کی خریدو فروخت پر پرانے قانون کے مطابق ٹیکس وصولی کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل غیر منقولہ جائیداد کے نام سے نیا اعلیٰ اختیاراتی ادارہ قائم کیا جا رہا ہے جبکہ پراپرٹی ٹیکس تنازعات حل کرنے کیلیے الگ سے اپیلٹ ٹربیونل بھی قائم کیے جائیں گے، یہ ادارے فنانس ایکٹ کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001میں شامل کی جانے والی نئی سیکشن 230 ایف کے تحت قائم ہوںگے جس میں کہا گیاکہ ڈائریکٹوریٹ جنرل غیرمنقولہ جائیداد ڈائریکٹر جنرل کے علاوہ کئی ڈائریکٹرز، ایڈیشنل ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز،اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور دیگر متعلقہ افسران و اسٹاف پر مشتمل ہو گا، عہددیداروں کی تقرری ایف بی آر نوٹیفکیشن کے ذریعے کرسکے گا۔ کم ویلیو ظاہر کرنے والے لوگوں کی جائیداد خریدنے کا طریقہ کار و شرائط بھی جاری کی جائیں گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل غیرمنقولہ جائیداد اپنی مقرر کردہ ویلیوایشن کی بنیاد پر کسی بھی شخص یا ادارے کی غیر منقولہ جائیداد زیادہ قیمت دے کر خریدنے کا پروسیس شروع کرسکے گا، محکمہ منقولہ جائیداد کی فیئر مارکیٹ پرائس کا تعین کرنے کے لیے ویلیوئر ایکسپرٹ تعینات کرسکے گا اور ذیلی شق 4 کے تحت قیمت اگر فیئر مارکیٹ ویلیو سے کم نکلی تو اس کی وجہ تحریری طور پر بیان کرنا ہوگی۔

اسی طرح جائیدادکے ٹرانسفر، رجسٹریش اور تصدیق ہونے کے 6ماہ کی مدت کے بعد کوئی پروسیڈنگ نہیں ہوسکے گی،کسی کے خلاف کوئی کارروائی سے قبل ٹرانسفر کرانے والے کو سماعت کا موقع دیا جائے گااورڈائریکٹر جنرل کے ٹرانسفر کرانے والے کے اعتراضات مسترد کرنے کی صورت میں وجہ بھی تحریری طور پر بتانا ہوگی۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ اپیلٹ ٹربیونل کے سربراہ اور ممبران کی تقرری کے ساتھ ان ٹربیونلزکے اختیارات، فنکشنز اور ٹربیونل کی تشکیل، اپیلوں کے کیس نمٹانے سے متعلق طریقہ کار و رُولز بھی الگ سے متعارف کرائے جائیں گے۔