معیشت بحرانوں کی زد میں نئی حکومت کیلیے پہلا سال آزمائش ہوگا

بجلی وگیس کی پیداوار کم، صنعت وزراعت سمیت کئی شعبے سست روی کا شکار، ٹیکس وصولیاں بھی ہدف کے مطابق نہیں


Khususi Reporter May 15, 2013
قرضوں پر قابو، معاشی نمو میں اضافے ودیگر چیلنجز سے نمٹنے کیلیے نئی حکومت کو بجٹ کی تیاری کا ہی وقت نہیں ملے گا۔ فوٹو: فائل

نئی حکومت کو لوڈشیڈنگ، اقتصادی بحران، گیس کے بحران سمیت دیگر سنگین نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم اسے پہلے ہی مالی سال میں بجٹ کی تیاری کے لیے وقت نہیں ملے گا اور یہ سال اس کے لیے آزمائش ہوگا۔

نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کی طرف سے حال ہی میں جاری کردہ اقتصادی اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال جی ڈی پی نمو سمیت کوئی معاشی ہدف حاصل نہیں ہوا جبکہ بجلی وگیس کی پیداوار میں کمی ہوئی، زراعت، خدمات اور پیداواری شعبے کی ترقی کی شرح ہدف سے کم رہی، ٹیکس ٹوجی ڈی پی تناسب میں بھی کمی آئی، بڑی فصلوں کی پیداوار، لائیواسٹاک سیکٹر، جنگلات کا شعبہ، تعمیرات، صنعتی شعبے میں سے کان کنی، بڑی پیمانے کی صنعتوں کی پیداوار سست روی کا شکار رہی۔



جبکہ گزشتہ 5 سال کے دوران پاکستان کے ذمے واجب الادا ملکی و غیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں اس قدر اضافہ ہوچکا ہے کہ اسے کنٹرول اور کم کرنا بھی نئی حکومت کے لیے بہت بڑا چیلنج ہوگا، وسائل میں اضافے کے لیے ٹیکسوں کی آمدنی کو بڑھانا، معاشی نمو کو فروغ دینا اور وراثت میں ملنے والے دیگر گمبھیر مسائل سے نمٹنا بھی نئی حکومت کے لیے بڑے چیلنجز ہوں گے۔

مقبول خبریں