پاکستان نے زیر زمین کوئلے سے گیس کی تیاری کا کنٹرول سسٹم تیار کر لیا
جدید کمپیوٹرائزڈسسٹم تھر میں انڈرگرائونڈ کول گیسی فکیشن پراجیکٹ پر نصب کردیا گیا، مطلوبہ معیار کی گیس کا حصول ممکن
ڈاکٹر محمد شبیر (فوٹو ایکسپریس)
پاکستان نے زیرزمین کوئلے سے گیس کی تیاری کے لیے دنیا کا پہلا کمپیوٹرائزڈ کنٹرول سسٹم تیار کرلیا ہے۔ تھر انڈر گرائونڈ کول گیسی فکیشن کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شبیر(ہلال امتیاز، تمغہ امتیاز)نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ تھر میں زیر زمین کوئلے سے گیس کی تیاری کا کنٹرول سسٹم تھر انڈرگرائونڈ گیسی فکیشن کمپنی کے ماہرین نے ڈیزائن کیا جسے قومی ادارے ''نیسکوم'' نے تیار کیا ہے، مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ کنٹرول سسٹم کیلیے کمپیوٹر سافٹ ویئر بھی پاکستانی ماہرین نے ہی تیار کیا جو تھر انڈرگرائونڈ گیسیفکیشن پراجیکٹ پر نصب کردیا گیا ہے۔
یہ سسٹم تھر کے کوئلے سے زیرزمین گیس کی تیاری کے عمل کو خودکار طریقے سے کنٹرول کرکے مطلوبہ معیار کی گیس کے حصول کو ممکن بنائے گا،کنٹرول سسٹم سے گیس پیدا کرنے کے لیے ہوا کے پریشر کو کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول کیا جائے گا کسی بھی والو کو کمپیوٹر کے ذریعے آپریٹ کرکے آن آف یا پریشر کو کم زیادہ کیا جاسکے گا۔
جدید ترین آن لائن گیس اینالائزر بھی اس سسٹم کا حصہ ہے جس سے گیس کے معیار کی جانچ کی جاتی ہے۔ یہ سسٹم تھر میں زیر زمین کوئلے کو جلاکر گیس بنانے کے عمل میں ہوا کا پریشر کنٹرول کرنے کے ساتھ گیس کی کوالٹی کی جانچ بھی کرے گا جس سے بجلی یا کول گیس سے دیگر مصنوعات کی تیاری کے لیے مطلوبہ معیار کی گیس حاصل کی جاسکے گی۔
تھر انڈر گرائونڈ کول گیسی فکیشن پراجیکٹ میں 36کنوئوں پر مشتمل ایک گیسفائر بنایا گیا ہے جسے آپس میں مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے کنٹرول کیا جائے گا اس وقت تھر میں 3 کنوئوں سے ہائی پریشر گیس داخل کرکے زیرزمین گیس تیار کی جارہی ہے جو 5خارجی کنوئوں سے باہر نکالی جارہی ہے۔ ڈاکٹر محمد شبیر کے مطابق کنٹرولنگ سسٹم کی تیاری کے بعد پاکستان دنیا میں پہلا ملک ہے جہاں انڈرگرائونڈ گیسفکیشن کو کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے کنٹرول کیا جارہا ہے چین جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی انڈرگرائونڈ گیسی فکیشن مینئول طریقے سے کنٹرول کی جاتی ہے،
انھوں نے کہا کہ اس سسٹم کی کامیاب جانچ کی جاچکی ہے اور یہ سسٹم بیرون ملک بھی ایکسپورٹ کیا جاسکتا ہے، تھرانڈرگرائونڈ کول گیسی فکیشن کے لیے خصوصی طور پر ملٹی پلگنگ کنٹرول سسٹم تیار کیا گیا ہے اور گیسفائرز کی تعداد بڑھنے پر انہیں بھی اس سسٹم سے منسلک کردیا جائے گا۔