پلیئرز کی گرفتاری باعث شرم ہےسابق پاکستانی کرکٹرز

اسپاٹ فکسنگ کونہ روکاگیا توکرکٹ کوناقابل تلافی نقصان پہنچے گا،ظہیر عباس


Sports Reporter May 17, 2013
دورئہ انگلینڈ میں ہمارے کھلاڑیوں کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے،معین خان۔ فوٹو: فائل

آئی پی ایل میں اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں 3 بھارتی کرکٹرز کی گرفتاری کو سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے باعث شرم قرار دے دیا۔

ان کے مطابق ایسے واقعات سے کرکٹ اور کھلاڑیوںکی بدنامی ہو رہی ہے، قومی کرکٹ ٹیم کو انگلینڈ میں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے، سابق ٹیسٹ کپتان ظہیر عباس نے کہا کہ کرکٹ میں ایسے واقعات ندامت کا سبب بن رہے ہیں، اسپاٹ فکسنگ پر قابو پانا مشکل ہے، ظہیر عباس نے کہا کہ یہ بات شروع سے کہی جارہی تھی کہ آئی پی ایل میں میچ فکسڈ کیے جاتے ہیں، بعض معاملات افشا ہو جاتے اور منظر عام پر نہیں آپاتے، پاکستان کے بعد اب بھارت کے بھی اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بعد اس بات کو تقویت مل رہی ہے کہ ایشیا میں یہ رحجان بڑھنے لگا،انھوں نے کہا کہ اسپاٹ فکسنگ کو روکنا بہت ضروری ہے ورنہ اس سے کرکٹ کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا۔



ظہیر عباس نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کے لیے انگلینڈ جانے والی قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو انتہائی محتاط رویہ اپنانا پڑے گا، مقامی میڈیا ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتا ہے اور کسی بھی کرکٹر کی معمولی سی بھی غلط حرکت پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی،ایک اور سابق ٹیسٹ کپتان معین خان نے کہا کہ ایسی حرکتیں کھیل کے وقار کے منافی ہیں،اسپاٹ فکسنگ جیسے واقعات کرکٹ کے لیے نقصان دہ ہیں، راجستھان رائلز کے تین کرکٹرز کا جیل جانا نہ صرف کرکٹ بلکہ بھارت کے لیے بھی عالمی ذلت کا سبب بنے گا، ایسا کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے جبکہ بُرے کام کا انجام بھی برا ہی ہوتاہے،معین خان نے کہا کہ سلمان بٹ، محمد آصف اور عامر کے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم پہلی مرتبہ انگلینڈ گئی ہے۔

چنانچہ پاکستانی کرکٹرز کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے، برطانوی میڈیا ان کی ہر حرکت پر گہری نظر رکھے گا، کرکٹرزکو غیر ضروری افراد سے ملنے میں احتیاط برتنا ہوگی اوروہ کسی بھی شک پر فوری رپورٹ کریں ، پی سی بی کے چیف انسٹرکٹر اور سابق ٹیسٹ کپتان وسیم باری نے کہا کہ کرکٹ میں دولت کی ریل پیل سے اسپاٹ فکسنگ بڑھ رہی ہے،آئی سی سی کی بار بار تنبیہ کے باوجود کھلاڑی باز نہیں آتے،آئی پی ایل میں اسپاٹ فکسنگ سامنے آنے کے بعد نہ صرف اس ایونٹ کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ چیمپئنز ٹرافی میں بھی بھارتی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر اثرات مرتب ہوںگے، کھلاڑیوں کو ایسے الزامات میں ملوث کرکٹرز کے انجام سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔