ذیابیطس کے حوالے سے صورت حال تشویش ناک ہے پروفیسر زمان

پاکستان میں 7.1فیصد افراد میں ذیابیطس پائی جاتی ہے جودنیا میں ساتویں نمبر پر ہے۔


Staff Reporter May 20, 2013
اگر فوری اقدامات نہیں کیے گئے توذیابیطس کے مرض کے حوالے سے پاکستان 2030 تک دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائے گا. فوٹو: فائل

ISLAMABAD: پروفیسر زمان شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان میںذیابیطس کے مرض کے حوالے سے صورت حال انتہائی تشویش ناک ہوتی جا رہی ہے، ملک میں ذیابیطس کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

ذیابیطس کاعالمی دن منانے کا مقصد ان تمام لوگوں کومدعوکرنا ہے جو ذیابیطس کی روک تھام کیلیے ذمے دار ہیں، ہمیں اپنے ملک میں ذیابیطس پر قابو پانے کیلیے مسلسل جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے، وہ نیشنل پیتھالوجی ویک2013 کی مناسبت سے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈائی بیٹیک اینڈ اینڈوکرینالوجی اوجھا کمپس میں ذیابیطس آگاہی سیمینار سے خطاب کررہے تھے، پروفیسر زمان شیخ نے کہا کہ انٹرنیشنل ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق پاکستان میں 7.1فیصد افراد میں ذیابیطس پائی جاتی ہے جودنیا میں ساتویں نمبر پر ہے۔



ایک اندازے کے مطابق اگر فوری اقدامات نہیں کیے گئے توذیابیطس کے مرض کے حوالے سے پاکستان 2030 تک دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائے گا، یعنی13.8ملین آبادی ذیابیطس کا شکار ہوجائے گی، انھوں نے بتایا کہ مشرق وسطی، شمالی افریقہ اور پاکستان میں26.4 ملین لوگ ذیابیطس میں مبتلا ہیں، 2030 تک یہ تعداد بڑھ کر51.7 ملین ہو سکتی ہے، ان علاقوں میں اس بیماری کی فوری روک تھام کی ضرورت ہے، پاکستان میں ذیابیطس کے ایک مریض کے علاج کا خرچ 24امریکی ڈالر سالانہ ہے ۔