پاور کمپنیوں کے 40 ارب کے سیلز ٹیکس ریفنڈز غیر قانونی قرار

ایف بی آر نے وزارت پانی و بجلی کی کمپنیوں کو ریفنڈز فراہمی کیلیے درخواست مسترد کر دی.


Irshad Ansari May 22, 2013
آئندہ بجٹ میں کمپنیوں کو ایسے کلیمز سے روکنے کے لیے قانون میں ترامیم کا اصولی فیصلہ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے پاور کمپنیوں کے 40 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کو غیرقانونی قراردیتے ہوئے وزارت پانی و بجلی کی کمپنیوں کو ریفنڈز فراہمی کی درخواست مسترد کردی ہے اور آئندہ بجٹ میں پاور کمپنیوں کو اس قسم کے ریفنڈکلیم کرنے سے روکنے کے لیے قانون میں ترامیم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

ایف بی آر کے سینئر افسر نے گزشتہ روز ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیوکو وزارت پانی و بجلی کی طرف سے درخواست موصول ہوئی تھی کہ پاور کمپنیوں کے 40 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیمز ایف بی آر کے پاس پھنسے ہوئے ہیں وہ ادا کردیے جائیں تاکہ پاور سیکٹر کو درپیش مالی مشکلات کا ازالہ ہوسکے اور پاور جنریشن میں اضافہ ہو۔



ایف بی آر ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے درخواست جائزہ لے کر مسترد کردے اور وزارت پانی و بجلی پر واضح کیا ہے کہ پاور کمپنیوں کی طرف سے جو ریفنڈ کلیم کیے گئے ہیں وہ قانونی طور پر درست نہیں اور ان پاور کمپنیوں کے یہ ریفنڈز بنتے ہی نہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے آئندہ پاور کمپنیوں کو ایسے ریفنڈ کلیمز سے روکنے کیلیے اصولی فیصلہ کیا ہے کہ بجٹ میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور سیلز ٹیکس اسپیشل پروسیجرز میں قانونی ترامیم کی جائیں اور ایسی شقیں اور پروسیجرز متعارف کرائے جائیں جن کے تحت یہ کمپنیاں ریفنڈ کلیم ہی نہ کر سکیں۔