کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی پھر جارحیت

سرحدی خلاف ورزیوں پر پاک بھارت ڈی جی ملٹری آپریشنز کا ہاٹ لائن پر رابطہ یا ملاقات کا سلسلہ بھی درجنوں بار ہو چکا ہے۔


Editorial August 19, 2018
سرحدی خلاف ورزیوں پر پاک بھارت ڈی جی ملٹری آپریشنز کا ہاٹ لائن پر رابطہ یا ملاقات کا سلسلہ بھی درجنوں بار ہو چکا ہے۔ فوٹو:فائل

لاہور: کنٹرول لائن کے ڈنہ سیکٹرمیں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے 65 سالہ شہری شہید اور دو شہری زخمی ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہفتے کو ڈنہ سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا پاک فوج نے بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ بھارتی گولہ باری سے لیپہ ویلی میں درجنوں مکانات تباہ ہو گئے' علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا' جس سے لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہونا شروع ہو گئے۔

بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی ایک ایسے وقت میں کی گئی ، جب ایک روز قبل ہی پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کا ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا، جس کے دوران لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کے معاملات پر اظہارِ خیال کیا گیا تھا اور بھارتی ڈی جی ایم او نے حالات خراب کرنے والے اقدام سے گریزکی یقین دہانی کروائی تھی۔ وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے بھارتی فوج کی ایل اوسی پرفائرنگ کی شدید مذمت کی ہے۔

ادھرسفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفترخارجہ طلب کرکے ڈنہ سیکٹر میں شہری کی شہادت پرشدیداحتجاج کیا اور احتجاجی مراسلہ دیا۔ بھارتی فوج کی جانب سے کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے اس کا یہی وتیرہ چلا آ رہا ہے۔ بھارت کے اس جارحانہ رویے سے اب تک درجنوں پاکستانی شہری شہید و زخمی اور لوگوں کے گھر تباہ ہو چکے ہیں۔

سرحدی خلاف ورزیوں پر پاک بھارت ڈی جی ملٹری آپریشنز کا ہاٹ لائن پر رابطہ یا ملاقات کا سلسلہ بھی درجنوں بار ہو چکا ہے اور ہر بار بھارت کی طرف سے سرحدوں کو پرامن رکھنے کی یقین دہانی کے باوجود اگلے ہی روز بھارتی گنیں آگ اگلنا شروع کر دیتی ہیں۔ اگر بھارت اپنے وعدے کی پاسداری کرنے والا ہوتا تو ڈی جی ملٹری آپریشنز کے درمیان طے پانے والے امور کے بعد سرحدوں پر مستقل امن قائم ہو جانا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہو رہا جو اس امر کا مظہر ہے کہ بھارتی یقین دہانیاں ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔

بھارت حالات خراب کرنے والے اقدامات سے گریز کی یقین دہانی کے باوجود ان سرحدی خلاف ورزیوں سے کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے' ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔ اب جب پاکستان میں نئی حکومت وجود میں آچکی ہے اور نئے وزیراعظم عمران خان بھارت سے بہتر تعلقات کا عندیہ دے رہے ہیں تو ایسی صورت حال میں بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں کے ذریعے پاکستان کے لیے مسائل پیدا کرنا معنی خیز ہے۔

نئی پاکستانی حکومت کو اس سلسلے کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ اب تک دونوں ممالک کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے درمیان ہونے والے ہاٹ لائن رابطوں اور بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دیے جانے والے احتجاجی مراسلات کا سلسلہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکا۔

 

مقبول خبریں