انٹر سٹی بس کے کرایوں میں غیر قانونی اضافہ

بیشتر بسوں میں اضافی خستہ حال نشستیں لگا کر مسافروں کو جانوروں کی طرح ٹھونس کر لے جایا جارہا ہے۔


Syed Ashraf Ali August 15, 2012
ریلوے نظام کی ناکامی کے بعد انٹرسٹی بسوں میں مسافروں کا رش بڑھ گیا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس/ فائل

انٹر سٹی بس ٹرانسپورٹرز نے رمضان کے آخری عشرے میں عید منانے کیلیے کراچی سے اندرون ملک جانے والے مسافروں سے عام دنوں کے کرایوں کے مقابلے میں200تا500روپے تک زائد کرایہ وصول کرنا شروع کردیا ہے۔

ٹرانسپورٹرز کا موقف ہے کہ رمضان کے آخری عشرے میں ہماری گاڑیاں واپسی میں خالی آرہی ہیں جس کے باعث کرایوں میں قدرے اضافہ کیا گیا ہے تاہم اب بھی ہمارے کرایے حکومت کے منظورکردہ نرخوں سے کم ہیں اور عید کے بعد کرایوں میں دوبارہ کمی کردی جائیگی، مسافروں کا کہنا ہے کہ صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں، کرایوں بھی کئی گنا اضافہ کردیا گیاجبکہ سہولیات میں بھی تنزلی آئی ہے، بیشتر بسوں میں اضافی خستہ حال نشستیں لگا کر مسافروں کو جانوروں کی طرح ٹھونس کر لے جایا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق رمضان کے آخری عشرے میں کراچی سے اندرون ملک مسافروں کی بڑی تعداد عید منانے کیلیے جارہی ہے، ریلوے نظام کی ناکامی کے بعد انٹرسٹی بسوں میں مسافروں کا رش بڑھ گیا ہے جس کے باعث بیشتر ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے بکنگ بند کردی ہے، نمائندہ ایکسپریس کے سروے کے مطابق کراچی سے اندرون سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر جانے والے روٹس پر مسافروں کی گہماگہمی دیکھنے میں آرہی ہے، دوسروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے یہ شہر ی کراچی پورٹ سٹی اور صنعتی مرکز میں روزگار کی تلاش میں آتے ہیں اور ہرسال عید منانے کیلیے آبائی علاقوں کیلیے روانہ ہوتے ہیں۔

تاہم سندھ حکومت کی جانب سے ان غریب حال مسافروں کیلیے کوئی انتظام نہیں کیا جاتا ہے، یہ مسافر انتہائی مشکل سے ٹکٹ حاصل کرتے ہیں، بیشتر بسوں میں سیٹوں سے زائد مسافر بھیڑ بکریوں تک ٹھونس دیے جاتے ہیں جو انتہائی تکلیف دہ حالات میں سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، سروے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ کوئٹہ جانے والی بسیں بھی صدر میں کھڑی ہونا شروع ہوگئی ہیں جبکہ ان کیلیے بلدیہ ٹائون میں انٹر سٹی بس ٹرمینل حکومت کی جانب سے تعمیر کردیا گیا ہے اور شہر کے دیگر حصوں میں ان بسوں کا سروس مہیا کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

سروے کے مطابق انٹر سٹی ٹرانسپورٹرز نے رمضان کے موقع پر کرایوں میں اضافہ کردیا ہے، رمضان سے قبل کراچی تا راولپنڈی کرایہ1900تا2ہزار روپے وصول کیا جارہا تھا جبکہ رمضان میں2200 روپے وصول کیا جارہا ہے، تلہ کنگ کا کرایہ 1800روپے تھا جبکہ اب دوہزار روپے، میانوالی کا کرایہ 1700روپے تھا جبکہ اب دوہزار روپے، لاڑکانہ، خیرپور، سکھر کا کرایہ 800روپے تھا جبکہ اب ایک ہزارروپے وصول کیا جارہا ہے، کراچی سے فتح جنگ کا کرایہ رمضان سے قبل1900روپے تھا تاہم اب 2100تا 2200روپے وصول کیا جارہا ہے، لاہور کا کرایہ دوہزار روپے مقرر تھا تاہم اب2300سے 2400روپے وصول کیاجارہا ہے، کراچی سے مظفرآباد دوہزار روپے کرایہ مقرر تھا تاہم اب 2400روپے وصول کیا جارہا ہے، کراچی سے مانسہرہ کرایہ دوہزار روپے تھا اب 2400 روپے وصول کیا جارہا ہے، کوئٹہ کا کرایہ 1200روپے تھا تاہم اب 1500تا 1800روپے جبکہ پشین کا کرایہ 1400روپے تاہم اب 1800روپے تک وصول کیاجارہا ہے۔

بیشتر ٹرانسپورٹ کمپنیوں کا موقف ہے کہ کرایوں میں یہ اضافہ اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ واپسی کے سفر میں ہماری گاڑیاں خالی آرہی ہیں تاہم ابھی بھی ہمارا کرایہ حکومت کے منظورکردہ نرخ سے کم ہے، انھوں نے کہا کہ عام دنوں میں ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں مقابلے کی فضا کے باعث کرایہ جات حکومت کے منظور کردہ نرخ سے کافی کم رکھے جاتے ہیں

مقبول خبریں