شہری آخر کہاں گئے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کیا جواب دیں جسٹس نعمت اللہ

پولیس25لاپتہ افرادکی بازیابی کیلیے موثراقدامات کرے،7 بار جے آئی ٹی بنائی گئی،نااہلی کی بھی حد ہوتی ہے،عدالت


Staff Reporter September 13, 2018
ہم پاکستانی ہیں ،عدالتوں کے چکرلگا کرتھک گئے،بتادیں کہ پیارے زندہ ہیں یا مر گئے، اہلخانہ عدالت میں روپڑے۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائی کورٹ نے 25 سے زائد لاپتہ افراد کی عدم بازیابی سے متعلق پولیس افسران کو لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے موثر اقدامات کرنے کا حکم دیدیا۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو 25 سے زائد لاپتہ افراد کی عدم بازیابی کے متعلق سماعت ہوئی، لاپتہ افراد کے اہلخانہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے، ہمارے پاس لے آیا تھا۔ واقعہ تیموریہ کے علاقے میں پیش آیا تھا لہذا اسی تھانے کی پولیس مزید کارروائی کرے گی اور ہمارا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔

زخمی نوجوان صحابت نے عباسی شہید اسپتال میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ تیموریہ کے علاقے نارتھ ناظم آباد ظفرٹاؤن کے قریب رہائش پذیر ہے،10 ستمبر بروز پیر کو وہ گھر سے اپنے والد کی سگریٹ اور نسوارخریدنے کے لیے شام 6 بجے کے قریب جارہا تھا کہ اسی دوران سیاہ رنگ کی گاڑی میں سوار 3 افراد اور انھوں نے میرے منہ پرکپڑا ڈالا اور مجھے اغوا کر اپنے ہمراہ نامعلوم مقام پر لے گئے۔ ایک مکان میں میرے ہاتھ اور پاؤں باھندکر قید کر دیا اس دوران نامعلوم افراد کی جانب سے مجھے بدترین ترین تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ غیر اخلاقی حرکت کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔

نوجوان نے بتایا کہ نامعلوم افراد کی جانب سے تیز دھار آلے کی مدد سے اس کے جسم پر مختلف وار بھی کیے گئے جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگیا تھا، نوجوان نے بتایا کہ نامعلوم افراد کے پاس اسلحہ بھی تھا اور وہ مجھ سے پوچھتے رہے کہ پیسے کہاں ہیں اور اپنے گھر والوں کا موبائل نمبر دو جس پر اس نے کہا کہ مجھے موبائل فون نمبر یاد نہیں اور وہ بہت غریب لوگ ہیں اور اس کے والد رکشا چلاتے ہیں ۔

نوجوان نے بتایا کہ مسلح ملزمان اسے دن میں صرف ایک پراٹھا کھانے کے لیے دیتے تھے ، متاثرہ نوجوان کی والدہ نے بتایا کہ چند روز قبل سادہ کپڑوں میں ملوس 3 افراد انھیں ملے تھے اور ان مشکوک افراد نے کہا تھا کہ اپنے بچوں کو بچاؤ، انھوں نے کہا کہ جب ان کا بچہ لاپتہ ہوا تو وہ لوگ تیموریہ تھانے گمشدگی رپورٹ درج کرانے گئے تھے لیکن تیموریہ پولیس نے ان کی ایک نہ سنی اور ان کی درخواست وصول کیے بغیر واپس بھیج دیا ۔

متاثرہ نوجوان کے والد محمد اسلم کا کہنا ہے کہ وہ 15 روز قبل ہی ملتان سے کراچی آئے ہیں اور ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے ، ان کا کہنا تھا کہ پولیس صرف بااثر افراد کا ساتھ دیتی ہے ایک رکشا ڈرائیور کی پولیس کیوں مدد کرے گی ،پولیس کل بھی غریبوں کامقدمہ درج نہیں کرتی تھی آج بھی ایسا ہی ہے۔