بنگلے میں کام کرنیوالی 13سالہ لڑکی پراسرار طورپرلاپتہ

عنایہ نے رشتے داروں کے ظلم سے تنگ آ کر ڈیفنس میں ملازمت کی تھی، ایس ایس پی


Staff Reporter September 17, 2018
گذری کے تاجرنے لڑکی کو 3 روز قبل گھر پر ملازم رکھا تھا، تفتیش شروع کردی فوٹو : فائل

گذری کے بنگلے میں کام کرنے والی نوعمر لڑکی پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی ۔

تفصیلات کے مطابق گذری کے رہائشی تاجر نے 3روز قبل اپنے گھر 13 سالہ عنایہ کو بطور ماسی ملازمت دی، ایس ایس پی ساؤتھ عمر شاہد نے ایکسپریس کو بتایا کہ 3 دن بعد جب انھوں نے بچی کی تنخواہ اور دیگر معاملات کیلیے اسے لانے والے افرادکو فون کیا تو رابطہ نہیں ہو سکا جس کے بعد انھوں نے پولیس کو تمام صورتحال سے ہفتے کی شب آگاہ کیا۔

جس پر پولیس حکام نے بچی کو تحویل میں لے کر شیلٹر ہوم منتقل کرنے کا کہا لیکن تاجر اوراہلخانہ نے اصرار کیا کہ شیلٹر ہوم کے بجائے وہ اپنے گھر میں ہی عنایہ کو رکھیں گے اور صبح تھانے آ جائیں گے جس کے بعد پولیس نے کاغذی کارروائی مکمل کی اور بیانات بھی لیے لیکن اتوار کی صبح تاجر نے پولیس کو مطلع کیا کہ بچی ان کے گھر سے بھاگ گئی ہے، پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ عنایہ گلستان جوہر کے علاقے صفورا کی رہائشی ہے اور اپنے رشتے داروں کے ساتھ رہتی تھی، مبینہ طور پر رشتے داروں کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر ڈیفنس میں ملازمت کی تھی، اس ضمن میں ایس ایس پی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ پولیس واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہے اور تحقیقات میں تمام صورتحال جلد واضح ہو جائے گی۔