کھیلوں کی نمائندہ تنظیموں میں محاذ آرائی…
پاکستانی کھیلوں کے سیاہ سفید کا مالک بننے کے لئے اس وقت پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور عبوری کمیٹی کے درمیان محاذ۔۔۔
7دسمبر1941ء کا سورج طلوع ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرا۔
امریکی جنگی بیڑے میں موجود عملہ دن بھر سرگرمیوں کی تیاریوں میں مصروف ہے، اچانک فضا میں سیکڑوں جنگی جہازوں کی کانوں کے پردے پھاڑ دینے والی آوازیں صبح کا سکوت توڑتی ہیں اور ان جہازوں سے گولوں، بموں اور میزائلوں کی بارش ہوتی ہے، یہ حملہ اس قدر تیز اور اچانک ہوتا ہے کہ بیڑے پر موجود فوجی افسروں اور اہلکاروں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف انسانی لاشیں ہی لاشیں بکھری نظر آتی ہیں جو بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، ان کی حالت مردوں سے بھی بدتر ہے، وہ زخموں سے چور درد سے کراہتے اور مدد کے لئے پکارتے ہیں لیکن ان کی صدا سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔
یہ جاپان کا وہ اچانک فضائی حملہ تھا جو اس نے دوسری عالمی جنگ کے دوران353 ہوائی جہازوں کے ساتھ بحرالکاہل میں موجود امریکی بحری بیڑے پر کیا۔ حملے میں مجموعی طور پر 188 امریکی ہوائی جہاز تباہ ، 2402 فوجی ہلاک اور 1282 زخمی ہوئے۔ ایسا محسوس ہوتاتھا کہ یہ کوئی فضائی حملہ نہیں بلکہ آسمانی آفت تھی جو پل بھر میں امریکیوں پرٹوٹ پڑی اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی زندگیاں نگل گئی۔ یہ شکست سے بھی بڑھ کر شکست اور تباہی سے بھی بڑی تباہی و بربادی تھی۔یہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے لئے بڑا کڑا،کٹھن اور مشکل وقت تھا۔
ان حالات میں امریکی صدر روز ویلٹ جانتا تھا کہ جاپانیوں کے ساتھ جنگ جیتنے کا زیادہ ترانحصار اس بات پر ہے کہ پرل ہاربر میں صحیح قسم کا آدمی بھیجا جائے اور وہ موزوں انتخاب ایڈمرل چیسٹر ڈبلیو نمٹز تھا۔آخر صدر روزویلٹ نے پرل ہاربر کی شکست کے بعد دوسرے اعلی بحری افسروں کی موجودگی میں بحرالکاہل جنگی بیڑے کی قیادت کے لئے ایڈمرل نمٹزکو ہی کیوں چنا، ابھی تو 28 افسروں کی ترقی کے بعد اس کی ترقی ہونی تھی، اسے ان 28افسروں پر ترجیح دے کر فقط بحرالکاہل کے جنگی بیڑے ہی کا نہیں بلکہ سارے علاقے کا کمانڈر انچیف بنا دیا گیا، وجہ نمٹز کی ایمانداری، بہادری اور اس کی غیر معمولی قوت فیصلہ تھی۔
جب وہ پرل ہاربر پہنچا تو متفکر اور گھبرائے ہوئے نیوی افسران اس کے پاس بھاگے بھاگے آئے لیکن اس سے ملاقات کے بعد ہر ایک کے چہرے پر خود اعتمادی اور سکون کے آثار نمایاں تھے۔ جب اخباری نمائندوں نے دشمن کی عیارانہ چالوں اورخوفناک طاقت کے بعد اس کی جنگی حکمت عملی کے بارے میں دریافت کیا تو نمٹز نے فقط اتنا کہا کہ وقت خود ہی بتائے گا اور واقعی اس نے وہ کچھ کر دکھایا جوکسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔
کسی بھی ملک کی ترقی و تنزلی، عروج و زوال، نشیب وفراز اور اونچ نیچ کا دارومدار وہاں کی منتخب قیادت کی نیک نیتی، حب الوطنی اور ملک وقوم کے لئے کئے گئے جرات مندانہ فیصلوں پر ہوتا ہے۔امریکی صدر روز ویلٹ اگر نمٹز کو بروقت بحرالکاہل میں موجود بحری بیڑے کا سربراہ بنانے کا بہادرانہ اور جرات مندانہ فیصلہ نہ کرتا تو شاید تاریخ کا رخ کسی اور جانب ہوتا۔ جاپانی فضائیہ امریکی بحریہ کا بھرکس نکال دیتی اورآج امریکا کی بجائے کوئی اور ملک سپرطاقت بن کرپوری دنیا کے سیاہ و سفید کا مالک بنا ہوتا۔
پاکستانی کھیلوں کے سیاہ سفید کا مالک بننے کے لئے اس وقت پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور عبوری کمیٹی کے درمیان محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی ہے اور نہ جانے کیوں مجھے یہ کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ ہماری ملکی گیمز بھی پرل ہاربر کی تاریخ کو دہرانے جا رہی ہیں، نمٹز نے تو اپنی خداداد صلاحیت، قابلیت اور جرات مندی کی بدولت امریکی بحری فوج کو مزید تباہی سے بچا لیا تھا لیکن 19 کروڑ افراد کی اس بھیڑ میں ہم میں ایک بھی ایسا دکھائی نہیں دے رہا جو نمٹز کی طرح پاکستانی کھیلوں کی ڈگمگاتی اور ڈولتی ہوئی کشتی کو ساحل مراد تک پہنچا سکے۔
ملکی بدلتے سیاسی حالات کے پیش نظر ہر کوئی شارٹ کٹ لگانے کے چکر میں ہے اور دوسروں کو زیر کر کے اقتدار کے اعلی ایوانوں میں قدم جمانے کا خواہشمند ہے۔ کھیلوں کی باگ دوڑ سنبھالنے والوں کو اس بات سے کوئی سروکار نہیںکہ عالمی سطح پر پاکستان کھلاڑی میڈلز لینے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں بس انھیں تو دلچسپی صرف اور صرف اس بات میں رہتی ہے کہ کھیلوں کی آڑ میں ان کے غیر ملکی دوروں میں کوئی کمی نہیں آنی چاہیے، کھلاڑیوں کی بجائے اپنی ذات کو ترجیح دینے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والے ہونے والے مقابلے میں ہمارے پلیئرز جس طرح جاتے ہیں اسی طرح خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں۔
اولمپکس دنیا میں کھیلوں کا سب سے بڑا میلہ ہوتا ہے، قومیں چار سال تک اس مقابلے کی تیاریاںکرتی ہیں اور جب ان کے کھلاڑی سونے، چاندی اور کانسی کے تمغے لے کر واپس لوٹتے ہیں تو پوری قوم ان کا استقبال کرتی ہے لیکن بدقستمی سے دوسرے شعبوں کی طرح پاکستان کھیلوں میں بھی بری طرح مار کھا رہا ہیں۔
پاکستان پہلی بار 1948ء سے اولمپکس میں شریک ہوا، اس وقت سے اب تک66 برسوں میں ہم مجموعی طور پر صرف10 میڈلز حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے، ان تمغوں میں بھی 8 ہاکی سے حاصل ہوئے جن میں سونے اور چاندی کے3، 3 اور کانسی کے2 میڈلز شامل ہیں۔ان کے علاوہ ہم آج تک ریسلنگ اور باکسنگ میں صرف دو کانسی کے تمغے حاصل کر سکے۔
ذرا سوچئے اور غور کیجئے کہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے لیکن 1992ء سے لے کر اب تک ہم اولمپک مقابلوں میں ایک بھی میڈل حاصل نہیں کر سکے، جبکہ ہمارے مقابلے میں امریکا اولمپکس مقابلوں کی تاریخ میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ 2653 میڈلز حاصل کر چکا ہے۔ سوویت یونین1204تمغوں کے ساتھ دوسری پوزیشن پر ہے، برطانیہ802، فرانس765، جرمنی 763، اٹلی 655، چین517، ہنگری482 اور جاپان 435 تمغوں کے ساتھ نمایاں ہے۔
چلو مان لیتے ہیں کہ یہ بڑے ملک ہیں اور ہمارا ان کے ساتھ مقابلہ نہیں ہو سکتا لیکن آپ تیسری دنیا کے ممالک کی صورتحال بھی ملاحظہ کر لیں، یوگوسلاویہ نے 90، ترکی 88، بھارت 26 اورازبکستان نے 18 میڈلز حاصل کئے ہیں۔لندن اولمپک 2012 میں205 ممالک کے کھلاڑی شریک ہوئے، دنیا کے 10960 ایتھلیٹس ان مقابلوں میں شریک ہوئے۔ان ممالک میں پاکستان اور پاکستان کے کھلاڑی بھی شامل ہوئے لیکن ہمارا نام بدترین ٹیموں میں آیا اور یہ سلسلہ 1992 سے جاری ہے مگر 19کروڑ لوگوں کے اس ایٹمی ملک کی کسی شخصیت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ حتیٰ کہ دہشت گردی کا شکار افغانستان بھی ایک میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہا اسی طرح غربت کے مارے ممالک گیبن، گوئٹے مالا سمیت افریقہ کے متعدد ممالک میڈلز کی دوڑ میں اپنا نام درج کروانے میںکامیاب رہے۔
یہ تلخ حقیقت اور کڑوا سچ ہے کہ ہم دہشت گردی کا شکار ہیں، ہماری معیشت دم توڑ رہی ہے، ہماری پارلیمنٹ ملک کو اچھی جمہوری روایات نہیں دے سکی لیکن ہم اسپورٹس میں تو اپنی صلاحیتیں ثابت کر سکتے ہیں، ہمیں اس سے کس نے روکا ہے ، ہم اگر اولمپکس میں شامل ممالک کو دیکھیں اور خود سے سوال کریں کیا ایران، قازقستان، منگولیا، نائیجریا، ازبکستان، یوگوسلاویہ اور کینیا ہم سے بہتر ممالک ہیں تو ہمارا جواب نفی میں ہوگا کیونکہ ان ممالک کی معیشت، ان کی صنعت اور ان کی سوسائٹی میں ہم سے زیادہ خرابیاں ہیں لیکن یہ ممالک ان خرابیوں کے باوجود کھیلوں میں ہم سے بہت آگے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم صلاحیت میں مار کھا رہے ہیں اورنیت میں بھی اور اس معاملے میں بھی ہماری قوم اور ہماری حکومت دونوں مجرم ہیں۔
موجودہ ملکی کھیلوں میں واحد گیم کرکٹ ہی باقی رہ جاتی ہے جس میں تمام تر نامساعد حالات کے باوجود اب تک دم خم موجود ہے، اس کھیل سے وابستہ کھلاڑی اپنی کارکردگی سے دنیا میں سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں لیکن شرفاء کے اس کھیل کے ساتھ بھی گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ذکاء اشرف حال ہی میںآئی سی سی کی منظوری سے ملکی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کرکٹ بورڈ میں جمہوری آئین نافذ کرنے کامیاب رہے ہیں لیکن ان کے اس کارنامے کو سراہنے کی بجائے بعض لوگ اسے بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
پاکستان جیسے جمہوری ملک میں آزادیٔ اظہار کا ہر کسی کو حق ہے لیکن خدارا اگر آپ کسی کے اچھے کام کی تعریف نہیں کر سکتے تو اسے برا کہنے کا بھی آپ کو کوئی حق نہیں ہے جو آیا ہے اس نے ایک نہ ایک دن جانا بھی ہوتا ہے، یہی دنیا کا دستور ہے اور قانون قدرت بھی، پی سی بی میں حقیقی معنوں میں آئین کے نفاذ کا جو پودا ذکاء اشرف چوہدری نے لگایا ہے اس کا پھل آنے والوں نے بھی کھانا ہے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور عبوری کمیٹی کے درمیان جاری محاذ آرائی کی وجہ سے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی طرف سے پاکستانی کھیلوں پر پابندی عائد کرنے کی تلوار تو لٹک ہی رہی ہے، ذرا غور کریں کہ پی سی بی میں بھی بروقت آئین کا نفاذ نہ ہوتا تو آئی سی سی ہمارا وہی حشر کرتی جو کبھی اس نے جنوبی افریقہ کے ساتھ کیا تھا۔ میں توکہتا ہوں تنقید کے لئے ذکاء اشرف کے کئی اور گناہ تلاش کئے جا سکتے ہیں، مگر جس گناہ میں ناقدین بھڑاس نکال رہے ہیں اس کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔n
[email protected]