فاٹا اور پاٹا کو 5 سال کے لیے سیلز ٹیکس چھوٹ

درآمدات کی سطح پر ٹیکس چھوٹ حاصل نہیں ہو گی، ایف بی آرنے2نوٹیفکیشن جاری کر دیے۔


Irshad Ansari October 06, 2018
انکم ٹیکس آرڈیننس میں متعدد شقیں ختم، درآمدات سے متعلق سیکشن 148ختم نہیں کیا گیا۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوااوربلوچستان میں ضم ہونیوالے فاٹا و پاٹا کے علاقوں کو5سال کیلیے وفاقی ٹیکسوں سے چھوٹ دے دی ہے تاہم درآمدی سطح پر ٹیکس چھوٹ نہیں ہوگی۔

ایف بی آرکی جانب سے گزشتہ روز باضابطہ طور پر2نوٹیفکیشن جاری کیے گئے ہیں جن میں بتایا گیا کہ25 ویںترمیم کے بعدفاٹا اور پاٹا کے علاقوں کو پختونخوا اور بلوچستان میں ضم کردیا گیا اور اس ایکٹ کے تحت خیبرپختونخوااوربلوچستان میں ضم ہونے والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے انفرادی ٹیکس دہندگان، ایسوسی ایشن آف پرسنز اور کمپنیوں کو 30 جون 2023 تک انکم ٹیکس اور سیلزٹیکس سمیت دیگر وفاقی ٹیکسوں سے چھوٹ دی گئی ہے۔

ایف بی آرحکام کاکہناہے کہ ان نوٹیفکیشنزکے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس میں متعدد شقیں ختم کی گئی ہیں تاہم درآمدات سے متعلق سیکشن148ختم نہیں کیا گیا اورنہ ہی اس میں کوئی ترمیم کی گئی ہے لہٰذا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ضم ہونیوالے فاٹا و پاٹا کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے انفرادی ٹیکس دہندگان، ایسوسی ایشن آف پرسنزاورکمپنیوںکو درآمدات پر ٹیکس سے چھوٹ حاصل نہیں ہوگیااسی طرح ان علاقوں کے لوگوں کو سیلزٹیکس سے بھی چھوٹ حاصل ہوگی۔

مقبول خبریں