مسافروں کوجلانیوالے ملزمان کی رہائی کی درخواست پرنوٹس جاری

ملزمان پر الزام ہے کہ انھوں نے کیماڑی میں بس کو آگ لگائی،7مسافر ہلاک ہوئے


Staff Reporter June 19, 2013
ملزمان پر الزام ہے کہ انھوں نے کیماڑی میں بس کو آگ لگائی،7مسافر ہلاک ہوئے. فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس احمد علی ایم شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے نے منی بس کو آگ لگاکر مسافروں کو ہلاک کرنے کے مقدمے میں ملوث ملزمان خانزادہ خان اور محمد شفیع کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سرکار کو3جولائی کیلیے نوٹس جاری کردیے۔

محمد اشرف قاضی ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اختیارکیا ہے کہ درخواست گزاروں کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیاہے ، درخواست گزار جائے واردات پر موجود ہی نہیں تھے،مدعی سمیت متعدد گواہوں نے درخواست گزاروں کو ملزمان کی حیثیت سے شناخت نہیں کیا،ایک ملزم آل پاکستان ٹینکرز ایسوسی ایشن کا نائب صدر اور دوسرا کے پی ٹی کا چوکیدار ہے۔

ان کا ہنگامہ آرائی سے کوئی تعلق نہیں، ملزمان نے اس سے پہلے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ضمانت پر رہائی کی درخواست دائر کی تھی تاہم خصوصی عدالت نے ملزمان کی ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد کردی تھی،استغاثہ کے مطابق جیکسن تھانے کی حدود میں کیماڑی پوسٹ آفس کے قریب عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں محمد شفیع اور خانزادہ نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ2001کے بلدیاتی نظام کی بحالی کیخلاف 13اگست کو قوم پرستوں کی ہڑتال کامیاب بنانے کیلیے مسافروں سے بھری روٹ نمبر W-11 کی منی بس نمبر JE-1050کو آگ لگادی۔



جس کے نتیجے میں حبیب الرحمن موقع پر ہی جل کر ہلاک ہوگیا تھا جبکہ35سالہ حوا خاتون ، 30 سالہ آمنہ بی بی ، 4 سالہ بچہ امان ، 10 سالہ شہریار ، 25 سالہ عمران ولد ستار ، 32 سالہ افضل چوہان ، 30 سالہ بابا رحمت ، 25 سالہ سلیمان،35سالہ فہیم اور 30 عمران جھلس کر زخمی ہو گئے تھے ، تاہم ان میں سے مزید 6 مسافر دم توڑ چکے ہیں، اس طرح اس حادثے میں ہلاک ہونیوالوں کی تعداد 7ہوچکی ہے۔

مقبول خبریں