فضائی آلودگی کو نتھنوں میں داخل ہونے سے روکنے والا فلٹر تیار

ناک کے اندر لگنے والا فلٹر امریکی ماہرین نے تیار کیا ہے جو الرجی کے ذرات کو بھی روکتا ہے


ویب ڈیسک November 22, 2018
امریکی ماہرین نے دنیا کا پہلا ایئر فلٹر بنایا ہے جو باہر سے دکھائی نہیں دیتا اور 90 فیصد مضر اجزا کو پھیپھڑوں تک جانے سے روکتا ہے (فوٹو: فائل)

پوری دنیا میں فضائی آلودگی سے ہوا کا معیار انتہائی خراب ہوچکا ہے چین و بھارت سمیت پاکستان کے کئی شہروں میں گرد و آلودگی کے ذرات کی مقدار بہت بڑھ چکی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے امریکی ماہرین نے ایک کم خرچ اور انتہائی مؤثر فلٹر بنایا ہے جس کی قیمت صرف 10 ڈالر یا 1400 پاکستانی روپوں کے برابر ہے۔

'او ٹو نوز فلٹر' ربڑ کےنرم پیڈز کی طرح ہے جو نتھنوں میں لگایا جاتا ہےاور باہر سے دکھائی نہیں دیتا ۔ یہ آلودگی کے مضر اثرات کو پھیپھڑوں تک جانے سے روکتا ہے۔ اس کے علاوہ دھویں اور فضا میں جمع ذرات، الرجی کی وجہ بننے والی گردوغبار کی 90 فیصد مقدار کو بھی یہ ناک کے اندر جانے سے روکتا ہے یہاں تک کہ اس سے بیکٹیریا بھی نہیں گزرسکتے ۔



فلٹر برق سکونی (الیکٹرو اسٹیٹک) انداز میں کام کرتے ہیں جنہیں مسلسل 12 گھنٹے تک پہنا جاسکتا ہے۔ کمپنی نے اس کی زیادہ تفصیلات نہیں دی ہیں غالباً یہ فلٹر 12 گھنٹے کے بعد ناکارہ ہوجاتا ہے اور اسی وجہ سے ایک پیکٹ میں 10 فلٹر آتے ہیں۔



ہمارے شہروں میں فضائی آلودگی خوفناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اب حال یہ ہے کہ پوری دنیا میں ہرسال 90 لاکھ افراد فضائی آلودگی کے ہاتھوں قبل از وقت موت کے منہ میں جارہے ہیں۔