بعض سیاسی جماعتوں کا منشور طالبان جیسا ہےرحمن ملک

کامرہ حملے میں مرنیوالے دہشتگردوں کی شناخت ہوگئی، عید پرسیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی


Numainda Express August 19, 2012
اسلام آباد:وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

لاہور: وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا ہے کہ کامرہ حملے میں ہلاک ہونے والے تمام دہشت گردوں کی شناخت کی جا چکی ہے، حملے میں ملوث اندرونی و بیرونی ہاتھوں کو بے نقاب کریں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا دہشت گردوں نے جو دہشت گردی کے منصوبے کا پلان تیار کیا تھا اس کا بلیو پرنٹ میں نے قوم کے سامنے رکھ دیا تھا۔

دہشت گردوں نے عید کے دن کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ حکومت اور قانون نافذ کر نے والے ادارے دہشت گردوں کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ حکومت اور عوام کریںگے۔ مغربی میڈیا کی جانب سے جوہری تنصیبات کے حوالے سے بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے جوہری اثاثوں کو کھلونے نہ سمجھا جائے حکومت ان کی حفاظت کرنا جانتی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ مجرموں کو طالبان نے قبائلی علاقوں میں پناہ دے رکھی ہے اور تمام دہشت گردگروپ آپس میں رابطے میں ہیں۔ وزیرستان اور کوئٹہ سمیت ہر جگہ طالبان ہمارے دشمن ہیں۔ سانحہ ناران بابوسر میں جاں بحق ہونے کے ورثاکو معاوضہ دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ کامرہ بیس کے واقعہ میں سیکیورٹی کی کوئی کوتاہی نہیں ہوئی۔ طالبان کے خلاف ہمیں متحد ہوکر لڑنا ہوگا۔ ملک دشمنوں نے عید کے دن دہشت گردی کا منصوبہ تیار کیا تھا جس کے پیش نظر ہم نے اسلام آباد سمیت ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے اور اسلام آباد میں رینجرز اور ایف سی بھی تعینات کر دی گئی ہے۔

بلوچستان کے روٹھے لوگوں کو منائیں گے اور ان کو تمام بنیادی حقوق دیں گے۔ انھوں نے کہا وزارت داخلہ نے کسی نجی تحقیقاتی ایجنسی کو لائسنس نہیں دیا۔ کوئی سیاستدان دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ تمام سیاستدان محب الوطن ہیں تاہم بعض سیاسی جماعتوں کا منشور طالبان جیسا ہے جو نہیں ہونا چاہیے۔ قبل ازیں اعلٰی سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے رحمٰن ملک نے چاروں صوبوں کے آئی جیز اور سیکریٹریز داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ عید الفطر کے موقع پر مساجد، عیدگاہوں اور امام بارگاہوں میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں۔ اجلاس میں صوبائی حکومتوں کو کالعدم تنظیموں کی سر گرمیوں پر نظر رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی۔