نجی اسکولوں کو پرانا فیس اسٹرکچر بحال کرنے کا حکم

عدالت نے 20 ستمبر2017 کے بعد وصول اضافی فیس غیرقانونی قراردیدی، ایڈجسٹ کرنیکاحکم، ایک ساتھ 3ماہ کی فیس لینے سے روک دیا


Staff Reporter December 04, 2018
آپ کی لابی مضبوط ہے،مرضی سے فیسیں بڑھادیتے ہیں،آڈیٹراکاؤنٹ منجمدکرے گا توپتہ چل جائے گا،جسٹس عقیل عباسی۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائی کورٹ نے نجی اسکولوں کو20 ستمبر2017 سے قبل کا فیس اسٹرکچر بحال اور 20 ستمبر 2017 کے بعد بڑھائی گئی اضافی فیس کی وصولی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایڈجسٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس عقیل عباسی کی سربراہی میں 3رکنی بینچ کے روبرو والدین کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی،ڈائریکٹر پرائیوٹ اسکولز منصوب صدیقی و دیگر عدالت کے روبرو پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے گزشتہ حکم نامے پر کیا عمل کیا گیا۔

نجی اسکول کے وکیل نے موقف اپنایا عدالتی حکم پر نظر ثانی فیس چالان جاری کرنا شروع کر دیے ہیں، عدالت نے ریمارکس دیے جاننا چاہتے ہیں فیس اسٹرکچر کی کس طریقہ کار سے منظوری دیتے ہیں، آپ ہمیں آخری فیس اسٹرکچر کی منظوری کا طریقہ کار بتائیں، آپ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نجی اسکولوں کی جانب سے فیس اسٹرکچر میں بڑی بے ضابطگیاں کی جارہی ہیں، نجی اسکول کے وکیل نے بتایا کہ بیکن ہاؤس اسکول عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کر رہا ہے، محکمہ تعلیم نے منظورشدہ فیس اسٹرکچر اور دیگر ریکارڈ پیش کردیا، نجی اسکول کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ترتیب کچھ بگڑی ہوئی ہے اس لیے متعلقہ ریکارڈ نہیں مل رہا۔

جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے ترتیب تو 2005 سے بگڑی ہوئی ہے سارا ریکارڈ ادھر ادھر کردیا گیاہے، بیکن ہاؤس اور سٹی اسکولز نے بھی توہین عدالت کے نوٹس کا جواب جمع کرادیا، عدالت نے استفسار کیا کہ آخری فیس شیڈول کی تفصیلات بتادیں ہم کچھ اور نہیں سننا چاہتے، وکیل سٹی اسکول اور بیکن ہاؤس اسکول نے موقف اختیار کیا کہ گزشتہ سال 5 فیصد اضافے کے ساتھ چالان جاری کیا گیا۔ ہم نے فیس اسٹرکچر سے متعلق درخواست ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز کو دے رکھی ہے۔

عدالت نے نجی اسکولوں کے وکیلوں سے مکالمے میں کہا کہ ماشااللہ آپ کی لابی بہت مضبوط ہے، آپ ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز کو گھاس تک نہیں ڈالتے، ایک درخواست دے کر اپنی مرضی سے فیسیں بڑھا دیتے ہیں، جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس میں مزید کہا کہ آپ نے جو حالات پیدا کر رکھے ہیں سب جانتے ہیں، نجی اسکولوں کے وکیل عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام ہوگئے۔

عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ آپ کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے آپ فیصلے پر عمل نہیں کر رہے، آڈیٹر آپ کے اکاؤنٹ منجمدکرے گا تو سب پتہ چل جائے گا،ایسا نہ کریں کہ عدالت کو سخت نوٹس لینا پڑے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا والدین کو نظر ثانی فیس کے چالان دیے گئے،کمرہ عدالت میں والدین نے فیس چالان دینے کی نفی کی جس پر عدالت نے ریمارکس دیے ہمارا حکم امتناع 20 ستمبر 2017 کا ہے اس سے پہلے اکتوبر کا جاری کردہ چالان بھی ریوائز کریں۔

ڈی جی پرایؤیٹ اسکولز منسوب صدیقی نے بتایا کہ ہیڈ اسٹارٹ اسکول کا فیس اسٹرکچر 2016 میں منظور ہوا تھا، 3 سال کے لیے رجسٹریشن کرتے ہیں، سٹی اسکول نے 2005 کے بعد فیس اسٹرکچر منظور نہیں کرایا، جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے یہ بڑے لوگ ہیں ان سے کون پوچھے گا اور انھیں منظور کرانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم پرانے آرڈرز پر نہیں جانا چاہتے مگر ستمبر 2017 کا ہمارا حکم ہے اس پر ہر صورت عمل کرنا ہوگا، جو اضافی فیس وصول کی ہے وہ واپس کریں اور اضافی فیس وصولی روک دیں۔

جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے اگلی سماعت پر عمل درآمد کرکے رپورٹ پیش کردیں ورنہ سخت حکم جاری کردیں گے، ریوائز چالان جاری کریں اور ریکارڈ پیش کریں، نجی اسکولوں کے وکیلوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ میں متنازع رقم جمع کرارہے ہیں۔

سپریم کورٹ میں 10 دسمبر کو کیس مقرر ہے مزید احکام آجائیں تو وضاحت ہوجائے گی ہم چاہتے ہیں کہ آپ کے حکم پر عمل درآمد ہو ہمیں بار بار سپریم کورٹ جانا نہ پڑے، عدالت نے استفسار کیا ہمارا کون سا حکم آپ کو ناگوار گزرا اور کون سے احکام کو چیلنج کیا ہے؟ نجی اسکولوں کے وکیل نے بتایا کہ ہم نے 19 نومبر کا حکم چیلنج کیا ہے، جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے آپ حکم امتناع لے آئیں ہم رک جائیں گے۔

عدالت نے 20 ستمبر 2017 سے قبل کا فیس اسٹرکچر بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے 20 ستمبر 2017 کے بعد سے اضافی فیس غیر قانونی قرار دے دی، عدالت نے نجی اسکولوأ کو 20 ستمبر 2017 کے بعد بڑھائی گئی فیس ایڈجسٹ کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہوئے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رقوم کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔

علاوہ ازیں عدالت نے نجی اسکولوں کی جانب سے 3 ماہ کی فیس ایک ساتھ وصول کرنے کا بھی نوٹس لے لیا اورنجی اسکولوں کو ایک ساتھ 3 ماہ کی فیس لینے سے بھی روک دیا اورسماعت 17 دسمبر تک ملتوی کردی۔