یورپی یونین کے الیکشن مبصر مشن کی مثبت رپورٹ

یہ سب انتخابی عمل کا حصہ ہے چونکہ الیکشن کمیشن پہلی بار آزادانہ کام کر رہا تھا۔


Editorial July 11, 2013
2013 کے الیکشن پہلی بار مکمل طور پر جمہوری حکومت کی سرپرستی میں ہوئے اور ایک جمہوری حکومت نے اقتدار پر امن طور پر دوسری جمہوری حکومت کو منتقل کر دیا۔ فوٹو: ایکسپریس

PARIS: یورپی یونین کے الیکشن مبصر مشن نے حالیہ انتخابات کے حوالے سے حتمی رپورٹ جاری کرتے ہوئے انتخابات کو مجموعی طور پر اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے 70 فیصد کے قریب صحیح قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ انتخابات دو ہزار آٹھ سے زیادہ آزادانہ اور منصفانہ تھے' ان انتخابات میں کسی بھی خفیہ ادارے کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے نہیں آئے۔ الیکشن کمیشن کو آیندہ انتخابات آزادانہ' منصفانہ اور شفاف بنانے کے لیے7 اصلاحات اور 50 سفارشات پیش کی گئی ہیں۔

پاکستان میں 2008ء میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں آمریت کا خاتمہ اور جمہوری حکومت کا آغاز ہوا۔ 2013ء کے الیکشن پہلی بار مکمل طور پر جمہوری حکومت کی سرپرستی میں ہوئے اور ایک جمہوری حکومت نے اقتدار پر امن طور پر دوسری جمہوری حکومت کو منتقل کر دیا۔ 2013ء کے انتخابات اس حوالے سے اہم تھے کہ پہلی بار خود مختار الیکشن کمیشن تشکیل دیا گیا جس نے ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ امیدواروں کی اسکروٹنی کے عمل کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی اگرچہ امیدواروں کی جانچ پڑتال کے دوران بعض مقامات پر پریشان کن اور قابل اعتراض صورتحال بھی پیدا ہوئی جس کا رپورٹ میں بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کچھ امیدواروں کے ایک حلقے سے کاغذات منظور ہوئے تو دوسرے حلقے سے اعتراضات لگا کر مسترد کر دیے گئے۔

یہ سب انتخابی عمل کا حصہ ہے چونکہ الیکشن کمیشن پہلی بار آزادانہ کام کر رہا تھا اس لیے تمام تر خلوص نیت اور کوشش کے باوجود چند ایک غلطیوں کا ہونا کوئی بڑی بات نہیں جس کی نشاندہی رپورٹ میں کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنی ذمے داریاں بخوبی نہیں نبھائیں' مختلف حلقوں میں ریٹرننگ افسران نے پولنگ اسٹاف کو آخری وقت میں تبدیل کر دیا۔ اعتراضات اپنی جگہ مگر الیکشن کمیشن نے جس جانفشانی اور لگن سے کام کیا اسی کا نتیجہ ہے کہ الیکشن مبصر مشن کو بھی یہ اعتراف کرنا پڑا کہ انتخابات 70 فیصد کے قریب درست تھے۔

پاکستان میں جب بھی عام انتخابات ہوئے اپوزیشن کی جانب سے اس میں خفیہ اداروں کی مداخلت کا واویلا مچا کر انھیں انجینئرڈ قرار دے کر نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جاتا رہا مگر اس بار الیکشن کمیشن کی بہتر کارکردگی کے باعث کسی خفیہ ادارے نے انتخابات میں مداخلت نہیں کی اور وہ مکمل طور پر جمہوری اداروں کی زیر نگرانی ہوئے۔ دہشت گردی کا خطرہ بھی اپنی جگہ موجود تھا۔ الیکشن کمیشن کے جرات مندانہ اقدامات ہی کا نتیجہ تھا کہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں بم دھماکوں اور دہشت گردوں کی دھمکیوں کے باوجود انتخابات منعقد ہوئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ووٹ ڈالے جس کے نتیجے میں جمہوری حکومت کا قیام یقینی ہوا۔

تین سیکولر جماعتوں کو دہشت گردوں کی جانب سے باقاعدہ دھمکیاں مل رہی تھیں' ان کے رہنما دہشت گردوں کا نشانہ بھی بنے مگر اس سب کے باوجود قوم نے الیکشن کمیشن پر اعتماد کرتے ہوئے تمام تر خطرات کے باوجود انتخابات میں بھرپور حصہ لیا اور جمہوری عمل کے تسلسل کو تقویت دی۔ انتخابات کی کامیابی دہشت گردوں کی ناکامی تھی۔ رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ دھاندلی کے الزامات پہلے دن ہی سے لگنا شروع ہو گئے تھے۔ دھاندلی کے الزامات شاید ہمارے جمہوری کلچر کا حصہ چلے آ رہے ہیں۔

ہارنے والے امیدوار دھاندلی کے الزامات لگاتے آئے ہیں مگر اس سب کے باوجود سیاستدان انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ یورپی یونین کے مبصر مشن نے بھی سیاسی جماعتوں کی جانب سے وائٹ پیپر جاری کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات عالمی ممالک کی جانب سے انجینئرڈ ہونے یا طے شدہ منصوبے کے مطابق ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ جب کوئی منصوبہ پہلی بار زیر عمل لایا جاتا ہے تو اس میں غلطیوں کا خدشہ تو رہتا ہے' مسلسل تجربات سے ان غلطیوں کا ازالہ خود بخود ہو جاتا ہے۔ ملک میں جمہوری عمل جاری رہا اور الیکشن اپنے وقت پر ہوتے رہے تو الیکشن کمیشن آیندہ انتخابات پر گزشتہ غلطیوں کا ازالہ کرنے کی بھرپور کوشش کرے گا اور انتخابی عمل خود بخود شفاف اور منصفانہ ہوتا چلا جائے گا۔