سیشن جج نے 10 سالہ بچے کی جج بننے کی خواہش پوری کردی

لاہور: ماتحت عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بار 10 سالہ بچے نے سیشن جج کے طور پر کرسی منصفی سنبھالی اور بطور شریک جج مختلف کیسوں کی سماعت کی۔

عدالتی ذرائع کے مطابق چوتھی جماعت کے طالب علم 10 سالہ مدثر کے والدین میں علیحدگی ہو چکی ہے وہ اپنی والدہ کے ہمراہ کمرہ عدالت میں اپنے والد سے طے شدہ ملاقات کے لئے پہنچا۔

ملاقات میں ابھی کچھ وقت باقی تھا کہ بچے نے اسی دوران سیشن جج لاہور سے بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ سیشن جج نے بچے کو روسٹرم پر بلا کر اس کی بات سنی تو بچے نے جج بننے کی اپنی دیرینہ خواہش بارے سیشن جج کو آگاہ کیا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور خالد نواز نے ننھے بچے کے جج بننے کی معصوم خواہش فوری طور پر پوری کردی۔

سیشن جج خالد نواز نے فوری طور پر اپنے عملے کو کہہ کر ایک اضافی کرسی اپنے پہلو میں لگوائی اور بچے کو اس پر بٹھا کر مختلف کیسوں کی سماعت کی جس کے دوران ننھے شریک جج سے سیشن جج نے مشاورت بھی کی۔ ننھے شریک سیشن جج کو سیشن جج لاہور خالد نواز نے عدالتی کارروائی کے طریقہ کار بارے مختصر آگاہی بھی دی۔ ننھا شریک سیشن جج اپنی معصوم خواہش پوری ہونے پر بہت خوش ہوا۔