تھرکول سے 100 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ موخر

ڈیزل کی پیداوار کیلیے نجی شعبے سے درخواستیں جلد طلب کی جائیں گی،وزیر اعظم نے 90کروڑجاری کردیے مزید رقم جلد جاری ہوگی


Kashif Hussain August 23, 2012
ڈیزل کی پیداوار کیلیے نجی شعبے سے درخواستیں جلد طلب کی جائیں گی، وزیر اعظم نے 90کروڑ جاری کردیے مزید رقم جلد جاری ہوگی،ذرائع

KARACHI: تھر میں کوئلے سے 100میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا سرکاری آزمائشی منصوبہ فنڈز کی عدم دستیابی اور آئل امپورٹ لابی کی مخالفت کے باعث تاخیر کا شکار ہے،منصوبے سے 100میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے بجائے نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے ڈیزل تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے نجی شعبے سے اظہار دلچسپی کی درخواستیں جلد طلب کی جائیںگی۔

منصوبے سے آزمائشی بنیادوں پر 100میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ موخر کردیا گیا ہے تاہم زیرزمین کول گیس تیار کرکے پراجیکٹ کی اپنی ضرورت کے لیے 10میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔ وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کی خصوصی دلچسپی سے منصوبے کے لیے 90کروڑ روپے 8اگست کو جاری کردیے گئے جبکہ اگلی سہ ماہی میں مزید 90کروڑ جاری کردیے جائیں گے یہ رقم منصوبے کی اپنی ضرورت کے لیے 10میگا واٹ بجلی کی تیاری کے لیے سازوسامان کی درآمد اور تنخواہوں پر خرچ کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق کول گیس سے چلنے والے جنریٹرز اور دیگر سازوسامان کی درآمد کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے 100 میگاواٹ بجلی کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہوچکا ہے اس دوران روپے کی قدرمیں کمی اور ڈالر مہنگا ہونے سے درآمدی سازوسامان کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پیپرا قوانین کے تحت جنریٹرز اور دیگر سازوسامان کی درآمد کے لیے ازسرنو ٹینڈر دینے کی صورت میں منصوبہ مزید ایک سال تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے جس میں سے 3ماہ ٹینڈرنگ کا عمل پورا کرنے، 6ماہ سازوسامان درآمد کرنے اور 2سے 3ماہ جنریٹرز کی کمیشننگ پر صرف ہوں گے۔

ملک کے نامور سائنسدانوں کی دن رات محنت سے اس منصوبے سے دسمبر 2011میں انتہائی محفوظ اور سستے طریقے سے گیس تیار کرلی گئی تاہم صدر آصف علی زرداری اور اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی براہ راست ہدایت کے باوجود منصوبے کے لیے بروقت فنڈز نہ مل سکے جس سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہے تھر کے کوئلے سے انڈرگرائونڈ گیسیفکیشن کے ذریعے ڈیزل کی تیاری کے لیے برطانیہ اور جنوبی افریقہ کے سرمایہ کاروں نے دلچسپی ظاہر کی ہے ، تھر کے کوئلے سے ڈاکٹر ثمر مبارک کے بلاک سے یومیہ 2000بیرل ڈیزل تیار کیا جاسکتا ہے مجموعی طور پر اس بلاک سے 1.3ارب بیرل ڈیزل تیار ہوگاجس کے لیے فی 1000بیرول یومیہ ڈیزل کی تیاری کے لیے سرمایہ کاری کا اندازہ 150سے 200ملین ڈالر لگایا گیا ہے یہ ڈیزل کم لاگت ہونے کے ساتھ ماحول دوست بھی ہوگا۔

مقبول خبریں