ایچ ای سی میں 3 ارب 33کروڑ کی بدعنوانی کا انکشاف

یونیورسٹیوں کو 2 ارب 69کروڑ 65لاکھ کے منصوبے طریقہ کار سے ہٹ کردیے گئے


APP July 22, 2013
یونیورسٹیوں کو 2 ارب 69کروڑ 65لاکھ کے منصوبے طریقہ کار سے ہٹ کردیے گئے۔ فوٹو: فائل

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے اکائونٹس میں گزشتہ سال 3ارب 33کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی بدعنوانی اور بدانتظامی کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ہائرایجوکیشن کمیشن کے اکائونٹس پر 51اعتراضات اٹھائے گئے ہیںجن میں سے 22 بدعنوانی ، 29اندرونی خامیوں اورایک 12لیپ ٹاپس کی خریداری میں فراڈ سے متعلق ہیں۔



رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف یونیورسٹیوں کو 2ارب 69کروڑ 65لاکھ روپے سے زائد کے مختلف منصوبے طریقہ کار سے ہٹ کر دیے گئے۔مختلف یونیورسٹیوں کے حکام کی نا اہلی کی وجہ سے کمیشن کو 9 کروڑ 39لاکھ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔ بیرون ملک سے پی ایچ ڈی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس نہ آنیوالے اسکالروں کی وجہ سے ایچ ای سی کو 10کروڑ 76لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑاہے۔