دہشت گردی کا خاتمہ کون کرے گا
کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار کے مرکزی امام بارگاہ سے متصل مین بازار میں افطاری سے کچھ دیر قبل یکے بعد دیگرے۔۔۔
پاکستان سمیت مختلف ممالک براہ راست دہشت گردی کی زد میں ہیں ۔ فوٹو: ایکسپریس
کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار کے مرکزی امام بارگاہ سے متصل مین بازار میں افطاری سے کچھ دیر قبل یکے بعد دیگرے 2 خود کش دھماکوں میں 44 افراد جاں بحق اور 140 سے زائد زخمی ہو گئے جن میں 30 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ادھر ہفتہ کی صبح گوادر کے قریب سن ستر کے مقام پر شورش پسندوں نے کوسٹ گارڈز کی چیک پوسٹ پر شدید حملہ کر کے 7 اہلکاروں کو ہلاک کیا اور فرار ہوگئے جب کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا ہولناک سلسلہ بدستور جاری ہے، فائرنگ کے مختلف واقعات میں مزید10 افراد ہلاک اور خاتون سمیت10 زخمی ہو گئے۔ یوں اگر نائن الیون کے بعد سے نہ ختم ہونے والی دہشت گردی میں ہلاکتوں کی سنگینی کا جائزہ لیا جائے تو جمعہ کو 60 سے زائد افراد انتہا پسندوں کے بہیمانہ حملوں کا نشانہ بن گئے۔
پارا چنار کے واقعے کے تناظر میں فرقہ واریت کے عنصر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ علاقے کے جغرافیائی، مسلکی اور تاریخی پس منظر میں انتہا پسند خاصے سرگرم رہے ہیں، ان گروپوں میں جھڑپوں، مسلح تصادم اور خوفناک لڑائیوں کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بارہا کرفیو اور ہنگامی حالت نافذ کرنا پڑی ہے۔ جب کہ علاقے کے امن پسند عوام ہر قیمت پر دہشت گردی سے تحفظ کے طلبگار ہیں مگر اس سمت کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ خطے کی سیمابیت کے باعث بعض مبصرین نے پارا چنار کو غزہ کی پٹی جیسا علاقہ بھی قرار دیا تھا جب کہ روسی فوج کے خلاف مجاہدین کی جہادی سرگرمیوں میں پارا چنار کو اہمیت حاصل رہی تھی، یہ کرم ایجنسی کا اہم ضلع سمجھا جاتا ہے۔ امریکی افواج کے کمانڈروں نے اسے ''طوطے کی چونچ'' کہا تھا جب کہ جنرل ضیاء کے دور حکومت میں اس خطے کو عسکری فوقیت دی گئی اور کابل تک مجاہدین کی لاجسٹک رسائی کے لیے پارا چنار ایک اہم بیس تھا۔
مگر بدقسمتی یہ رہی ہے کہ روس کے انہدام اور افغانستان میں ہزیمت کے بعد پارا چنار سمیت فاٹا کے دیگر پسماندہ علاقوں میں اقتصادی ترقی، شرح خواندگی میں اضافہ، روزگار کی فراہمی اور صحت عامہ کے حوالے سے جن ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی ضرورت تھی اس کا ماضی کی کسی حکومت نے درست ادراک نہیں کیا چنانچہ اس تساہل، غفلت اور عاقبت نا اندیشی کا نتیجہ موجودہ اندوہ ناک صورت میں نکلا جب کہ طالبان کے عروج و ظہور کے ساتھ ہی مسلح وارداتوں اور مذہبی کشیدگی کے باعث پورا قبائلی بیلٹ فلیش پوائنٹ بن گیا ہے۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ پارا چنار میں جولائی 2007ء سے اب تک 3 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، ان قیمتی جانوں کو بچانے کے لیے دہشت گرد اور انتہا پسند قوتوں سے نمٹنے کے لیے وہ طریقے اختیار نہیں کیے گئے جن سے صلح، امن، مفاہمت، خیر سگالی، قومی یکجہتی اور اخوت و یگانگت کو فروغ حاصل ہوتا، اور اگر دہشت گردی کو کنٹرول کر کے میدان جنگ بننے والے علاقوں کے عوام کو جمہوریت کے معاشی ثمرات سے فیضیاب کیا جاتا تو قوم کو دہشت گردی کے عفریت کا منہ نہ دیکھنا پڑتا۔
دہشت گرد اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہلاکت خیز کارروائیاں کر رہے ہیں۔ چنانچہ درج ذیل واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے صورتحال کی لرزہ خیزی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر جمعہ کو پاراچنار کے مین بازار میں افطاری سے قبل لوگ خریداری کر رہے تھے کہ شام 6 بجکر 5 منٹ پر مسجد اور امام بارگاہ کے سنگم میں ایک زور دار دھماکا ہوا جس کے صرف ایک منٹ بعد 6 بجکر6 منٹ پر زیڑان اڈا اسکول روڈ پر دوسرا زور دار دھماکا ہوا، عینی شاہدین کے مطابق دونوں دھماکے موٹر سائیکل پر سوار خود کش حملہ آوروں نے کیے، دھماکوں کے بعد دور دور تک انسانی اعضابکھر گئے۔ پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق دونوں دھماکے بازار میں کیے گئے، اس لیے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا، دھماکے سے متعدد گاڑیوں، دکانوں اور مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پہلے دھماکے سے ایکسپریس نیوز کے دفتر کو بھی نقصان پہنچا تاہم دفتر میں موجود نمائندہ مہدی حسین اور ان کا جواں سال بیٹا افغان حیدر بال بال بچ گئے۔
بی بی سی کے مطابق ایک عینی شاہد اور انجمن حسینیہ پاراچنار کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکوں کے وقت بازار میں خریداروں کا رش تھا ۔ مجلس وحدت المسلمین نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب لوئر کرم ایجنسی کے علاقے مینگگ خریٹی میں پاراچنار جانیوالی مسافر گاڑی سڑک کے کنارے نصب بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ ہو گئی جس کے نتیجے میں 2 افراد ناصر حسین طوری اور خیر علی طوری جاں بحق اور 6 زخمی ہو گئے۔ باجوڑ ایجنسی کی تحصیل خار کے علاقہ کوثر میں بم پھٹنے سے ایک لڑکاجاں بحق اور 4 افراد خمی ہو گئے۔ سوات کے علاقے مٹہ کے بازار میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے امن کمیٹی کے رکن اور مقامی تاجر محمد یعقوب خان کو قتل کر دیا۔ پشاور کے نواحی علاقے جنگلئی میں پولیس موبائل پر شرپسندوں کے حملے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
کراچی میں چاکیواڑہ کے علاقے الفلاح روڈ کچھی پاڑہ پر لیاری گینگ وار کے ملزمان کی جانب سے2 آوان گولے اور دستی بم حملے سے علاقہ دھماکوں سے گونج اٹھا جس کے باعث مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، دھماکے سے 3 افراد قادر، رمضان اور سہیل زخمی ہو گئے جنھیں فوری طبی امداد کے لیے سول اسپتال لیجایا گیا، لیاری گینگ وار کی جانب سے کچھی برادری کے افراد کو نشانہ بنائے جانے پر علاقہ مکینوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ قانون شکنی کی انتہا دیکھیے کہ بھتہ خوروں نے منی پاکستان میں اب بلدیہ فائر اسٹیشن سے بھی 2 لاکھ روپے بھتہ طلب کر لیا اور نہ دینے پر مسلح افراد نے فائر اسٹیشن میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے جس کا مطلب واضح ہے کہ پولیس شہر میں جاری بھتہ خوری کا سلسلہ روکنے میں بالکل ناکام ہو گئی ۔ چیف فائر آفیسر کا کہنا ہے کہ بھتہ خوروں کی جانب سے فون کال کے ذریعے 2 لاکھ روپے بھتہ طلب کیے جانے کی انھیں اطلاع ملی ہے اور نہ دینے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں تھیں۔
جہاں تک دہشت گردی کے غیر انسانی اور شرم ناک واقعات اور ان کی موثر روک تھام کا تعلق ہے اس معاملہ میں ریاستی اور حکومت کی انتظامی سطح پر عدم سمتی اور قوت فیصلہ کے فقدان نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے جسمیں سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا دہشت گردی کا قلع قمع کرنا حکومت کی اولین ترجیع ہے یا نہیں۔ دہشت گردی کی وارداتیں تو پچھلے پانچ سال سے جاری ہیں، کوئی بڑا دہشت گرد پھانسی نہیں چڑھا جب کہ ہزاروں بیگناہ شہری ڈرون حملوں، بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز اور مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں موت کی نیند سلا دیئے گئے۔ سابقہ دور میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی کی سندھ میں اتحادی حکومت تھی وہ بھی اس ناسور پر قابو نہ پا سکی، سارا وقت نام نہاد مفاہمت اور سیاسی جوڑ توڑ کی نذر ہوتا گیا، کم و بیش یہی صورتحال آجکل بھی نظر آتی ہے۔ ہر طرف سیاسی جوڑ کا سلسلہ جاری ہے لوگ بلا جواز مارے جا رہے ہیں۔ دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ امن کب قائم ہو گا، اور قتل و غارت کے عفریت کا سر کون کچلے گا؟