پراسیکیوٹرجنرل کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر

شہادت اعوان مخصوص فریقین کی حمایت کی ہدایت دیتے ہیں،درخواست گزاروںکاموقف


Staff Reporter July 31, 2013
شہادت اعوان مخصوص فریقین کی حمایت کی ہدایت دیتے ہیں،درخواست گزاروں کاموقف فوٹو: فائل

BERLIN: پراسیکیوٹر جنرل سندھ شہادت اعوان کیخلاف ان کے ماتحتوں نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا اورموقف اختیارکیاہے کہ پراسکیوٹرجنرل مخصوص مقدمات میں فریقین کی حمایت کی ہدایت کرتے ہیں۔

مرضی کاکام کرانے کیلیے دھمکیاں بھی دیتے ہیں، پراسیکیوٹرجنرل کی حیثیت سے شہادت اعوان کی مدت مکمل ہوچکی ہے اوراس وقت وہ اس عہدے پرغیرقانونی طور پربراجمان ہیں اس لیے ان سے پوچھاجائے کہ وہ کس حیثیت میں یہ فرائض انجام دے رہے ہیں ،درخواست میں استدعاکی گئی ہے کہ ان کی مدت کے خاتمے کے بعدکے تمام احکامات وہدایات کوغیر قانونی قراردیاجائے۔سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس غلام سرورکورائی اور جسٹس ندیم اختر پر مشتمل2رکنی بینچ نے اس سلسلے میں دائردرخواست پرچیف سیکریٹری ،سیکریٹری قانون اورشہادت اعوان کو 6اگست کیلیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔ایڈیشنل پراسیکیوٹرجنرل سلیم اختربروڑ و اور دیگرکی جانب سے دائردرخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ شہادت اعوان کو20مئی2008کوپراسیکیوٹر جنرل تعینات کیا گیا تھا۔



بعدازاں سندھ اسمبلی نے سندھ کرمنل پراسیکیوشن سروس ایکٹ 2009 منظور کیا، شہادت اعوان 10مئی2011کو اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے پرریٹائر ہو گئے ہیں مگر مذکورہ ایکٹ کے سیکشن 6میں ترمیم کے زریعے حکومت کو پراسیکیوٹر جنرل کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کااختیار دیا گیا مگرچیف سیکریٹری کی جانب سے مذکورہ ایکٹ میں ایک دفعہ پھرترمیم کرکے اسے اصل شکل میں بحال کردیا گیاجس سے پراسیکیوٹرجنرل شہادت اعوان کودی گئی توسیع بھی ختم ہوگئی مگروہ تاحال اس عہدے پر براجمان ہیں ،یہ عمل غیرقانونی ہے مگرچیف سیکریٹری کی جانب سے بھی مسلسل ان کی حمایت جاری ہے،درخواست گزاروں نے موقف اختیارکیاکہ پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے درخواست گزاروں کو مسلسل ہراساں کیاجاتا ہے اور غیر قانونی ہدایات دی جاتی ہیں۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیاہے۔