افغان جنگ میں معصوم شہریوں کے لیے 2018 سب سے خونریز سال تھا اقوام متحدہ

افغانستان میں گزشتہ 10 برسوں میں 32 ہزار معصوم شہری ہلاک اور 60 ہزار کے قريب زخمی ہوئے، اقوام متحدہ


ویب ڈیسک February 24, 2019
2018 میں 11 فیصد اضافے کے ساتھ معصوم شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ رپورٹ فوٹو : فائل

افغان جنگ کی ایک دہائی کے دوران سال 2018 معصوم شہریوں کی ہلاکتوں میں سب سے خونریز سال تھا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنگ زدہ افغانستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران شہريوں کے زخمی يا ہلاک ہونے کے سب سے زيادہ واقعات گزشتہ برس 2018 میں پیش آئے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں درج اعداد و شمار کے تحت 2018 میں 3 ہزار 8 سو 4 شہری ہلاک ہوئے جب کہ دھماکوں اور پُر تشدد واقعات میں 7 ہزار 189 افراد زخمی ہوئے یعنی مجموعی طور پر 10 ہزار 933 شہری ہلاک و زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شہريوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کے واقعات میں 63 فیصد شدت پسندوں کے حملوں میں پیش آئے، جن میں سے 37 فیصد حملے طالبان اور 20 فیصد حملوں میں داعش ملوث تھی جب کہ 6 فیصد حملے دیگر حکومت مخالف جتھوں نے کیے۔

اسی طرح زخمی يا ہلاک ہونے والے 24 فیصد شہری کابل حکومت، مغربی دفاعی اتحاد نيٹو و اس کے اتحاديوں کی جانب سے شدت پسندوں تنظیموں پر حملے میں نشانہ بنے جب کہ بقیہ شہری شدت پسندوں کے عوامی مقامات اور حکومتی و اتحادی فورسز پر حملے کے دوران ہلاک و زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2017 کے مقابلے ميں 2018 ميں معصوم شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے کے واقعات ميں 11 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے جب کہ گزشتہ 10 برسوں میں 32 ہزار شہری ہلاک اور 60 ہزار کے قريب زخمی ہوئے۔