چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کا استعفیٰ

انھوں نے انتہائی خطر ناک ماحول میں چیف الیکشن کمشنر کی ذمے داری سنبھالی۔


Editorial August 01, 2013
ممکن ہے کہ فخرالدین جی ابراہیم کے استعفے کے پس پردہ کوئی کہانی موجود ہو لیکن انھوں نے خود کوئی بات نہیں کی۔ فوٹو: فائل

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم نے بدھ کواپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے،اخباری اطلاعات کے مطابق انھوں نے صدر مملکت آصف زرداری کو جو استعفیٰ بھجوایا ہے' اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ملک کی تاریخ کے66 برسوں میں پہلی مرتبہ عام انتخابات کے بعد پر امن انتقال اقتدار کا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے ۔ میری مخلصانہ رائے میں نئی منتخب پارلیمنٹ کے ارکان کو حق ہے کہ وہ اتفاق رائے سے نئے چیف الیکشن کمشنر کو نامزد کریں تاکہ نئے چیف الیکشن کمشنر کو آیندہ 2018 کے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے مناسب وقت مل سکے۔

فخر الدین جی ابراہیم نے 23 جولائی2012 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا' ان کی آئینی مدت 2017ء میں پوری ہو رہی تھی۔ لیکن انھوں نے صرف ایک برس بعد ہی استعفیٰ دینا مناسب سمجھا۔ فخر الدین جی ابراہیم کے استعفے کی جو وجوہات سامنے آئی ہیں' ان میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں کہ وہ شاید حالیہ صدارتی انتخاب کے حوالے سے کوئی احتجاج کرنا چاہتے ہیں یا وہ کسی قسم کے سیاسی دبائو کا شکار تھے' بہر حال ان کے استعفے کی ٹائمنگ ایسی ہے جس کے پیش نظر بعض حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید انھوں نے صدارتی الیکشن کے شیڈول کو تبدیل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیاسی جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمیشن پر سیاسی جماعتوں کی شدید تنقید کے بعد دلبرداشتہ ہو گئے تھے۔

بہر حال ممکن ہے کہ ان کے استعفے کے پس پردہ کوئی کہانی موجود ہو لیکن انھوں نے خود کوئی بات نہیں کی۔ یہاں تک ان کی خدمات کا تعلق ہے تو انھوں نے انتہائی خطر ناک ماحول میں چیف الیکشن کمشنر کی ذمے داری سنبھالی اور اسے پوری دیانت سے نبھایا۔ انھیں دہشت گردی کی جانب دھمکیاں بھی ملیں لیکن وہ خوف زدہ نہیں ہوئے' بطور چیف الیکشن کمشنر ان پر بعض حلقوں نے تنقید بھی کی لیکن بحیثیت مجموعی تمام سیاسی جماعتوں کا ان پر اعتماد برقرار رہا۔