کراچی کی ترقی کیلیے سندھ حکومت اور ورلڈ بینک میں 2 ارب ڈالر کے منصوبوں پر اتفاق

ورلڈ بینک کے ماہرین سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (ایس ایم ٹی اے) کی استعداد کار میں بھی بہتری لائیں گے


Staff Reporter March 05, 2019
کراچی واٹر بورڈ کے 3 شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے،ورلڈ بینک فوٹو: فائل

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور ورلڈ بینک کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے کراچی شہر کو دنیا کے خوبصورت شہروں کے طرز پر ترقی دینے کیلیے2بلین ڈالرزکے منصوبے شروع کرنے پر اصولی طور پر اتفاق کیا۔ پیرکواجلاس میں جومنصوبے زیرغورآئے اور جنھیں شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

ان میں4ملین ڈالرز کا کراچی اربن موبلٹی پروجیکٹ (کے یو ایم پی)،1.6بلین ڈالرز کا کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپرومینٹ پروجیکٹ (کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی) اور230 ملین ڈالرز کا کومپی ٹیٹیو اینڈ لوایبل سٹی آف کراچی (سی ایل سی کے) شامل ہیں۔ ورلڈ بینک کے16رکنی وفدکی سربراہی کنٹری ڈائریکٹر پیچاموتھو الانگون کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ کی مددکیلیے وزیر بلدیات سعید غنی، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب اور دیگر حکام موجود تھے۔

کراچی اربن موبلٹی پروجیکٹ کا مقصد اربن موبلٹی بالخصوص خواتین کے لیے قابل دسترس اور روڈ سیفٹی ہے۔ منصوبے کے تحت بی آر ٹی یلولائن کوریڈور، بشمول انفرااسٹرکچرکی بحالی اور بی آرٹی ایس سسٹم کی تعمیر ہے۔ ورلڈ بینک کے ماہرین سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (ایس ایم ٹی اے) کی استعداد کار میں بھی بہتری لائیں گے تاکہ تمام بی آر ٹی سسٹم کی دیکھ بھال کی جاسکے۔ ورلڈ بینک سڑکوں، فٹ پاتھوں کی بحالی اور دیگر متعلقہ انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لیے فنانسنگ کرے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی ایک خوبصورت شہر تھا مگر اس کی خوبصورتی میں اس وقت اور اضافہ ہوجائے گا جب اس کا ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر ہوجائے گا۔ ہم سرکلرریلوے منصوبے پر کام کر رہے ہیں مگر اس کے باوجود بی آر ٹی کے اربن ٹرانسپورٹ سسٹم کی اشد ضرورت ہے۔ ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹرنے محکمہ ٹرانسپورٹ پر زور دیا کہ وہ تمام تر متعلقہ کاغذات پی سی ون اور دیگر لے آؤٹ پلان انھیں فراہم کردیں تاکہ وہ اسے حتمی منظوری کے لیے اپنے بورڈ کو بھیج سکیں۔

شہرمیں پانی کی فراہمی اورسیوریج کے نظام(کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی) کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ واٹربورڈ کو ایک بہت زیادہ موثر، جامع اور سروس ڈلیوری کا ادارہ بنانا چاہتے ہیں۔ واٹر بورڈ کی ری اسٹرکچرنگ، فراہمی اور نکاسی آب کا نظام بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ورلڈ بینک کا تعاون چاہیے۔ پروگرام کا مقصد صاف اور محفوظ پانی اور نکاسی کی خدمات فراہم کرنا ہیں اور پانی کی فراہمی اور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے حوالے سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

ورلڈ بینک کے ماہرین نے کہا کہ واٹر بورڈ میں3 شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے، سب سے پہلے تو تمام صارفین کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کے حوالے سے سروس ڈلیوری اورآپریشنل استعدادکار میں اضافہ کرنا ہے۔ دوسرے نمبر پر واٹر بورڈکے مالی استحکام کو بحال کرنا ہے اور تیسرا واٹر بورڈ میں گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سندھ حکومت اور ورلڈ بینک نے منصوبے کی منظوری پر اتفاق کیا اس کے لیے تمام قانونی کارروائی ایک ماہ کے اندر مکمل کی جائے گی اور منصوبہ منظوری کے لیے ورلڈ بینک بورڈ کو بھیج دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم، ایم ڈی واٹر بورڈ اسداللہ خان اور پی ڈی کے فور اسد ضامن پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جو ورلڈ بینک کی تمام تر ضروریات کو پورا کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ سی ایل سی کے منصوبے کے تحت وہ کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن اور شہر کی تمام ڈی ایم سیز کے لیے سروس ڈلیوری اور اربن مینجمنٹ میں اضافہ لانا چاہتے ہیں۔ ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر الانگون نے کہا کہ ان کی ٹیم اس منصوبے پر پہلے ہی کام کر چکی ہے اور منصوبے کے لیے ڈیزائن فیچرز تیار کیے جاچکے ہیں۔ کے ایم سی اور تمام6ڈی ایم سیزمیںادارہ جاتی اصلاحات متعارف کرائی جائیںگی۔ پراپرٹی ٹیکس سروے کرایا جائے گا اور تمام ادائیگیاں بشمول تنخواہیں، لوکل ٹیکسز کی وصولیاں، پراپرٹی ٹیکس اور بلوں وغیرہ کی ادائیگی الیکٹرانکلی طریقے سے کی جائے گی۔ تمام مینوئل سسٹم کو ڈیجیٹل / الیکٹرانک سسٹم سے تبدیل کیا جائے گا۔ منصوبے کی اصولی طور پر منظوری دے دی گئی ہے اور اسے حتمی منظوری کے لیے ورلڈ بینک بورڈ کو بھیجا جائے گا۔

وزیراعلیٰ اور ورلڈ بینک نے تینوں منصوبوں کی کاغذی کارروائی کو مکمل کرنے کے لیے ڈیڈ لائن بھی مقرر کی، سی ایل سی کی اپریل کے پہلے ہفتے تک جبکہ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی اور کے یو ایم پی کی مارچ کی آخر تک ڈیڈ لائن ہے۔