سندھ میں پی اے سی کی سربراہی نہ ملنے پر اپوزیشن کا اسمبلی اجلاس میں نہ آنے کا اعلان

اپوزیشن نے اپنے اجلاس کیلیے محمد حسین کو اسپیکر قرار دیدیا


Staff Reporter March 05, 2019
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ اپوزیشن کو نہیں دی جائے گی، وزیر بلدیات سعید غنی نے بھی دوٹوک الفاظ میں اپوزیشن کو بتادیا فوٹو:ٖفائل

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی نہ ملنے پر آئندہ ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے اوراسمبلی کا اجلاس ایوان سے باہر خود چلانے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کے بعد وزیر بلدیات سعید غنی نے بھی دوٹوک الفاظ میں اپوزیشن کو بتا دیا کہ سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ اپوزیشن کو نہیں دی جائے گی۔ پیرکوسندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے اسپیکر کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ وزیراعلیٰ کہہ چکے ہیں کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اپوزیشن کو نہیں دیںگے، وزیراعلی ٰکے اس واضح اعلان کے بعد ہم بھی سندھ اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے اور اب ایوان میں نہیں بیٹھیں گے۔

جس پر اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کا اگر الیکشن کرانا چاہتے ہیں تو بے شک کرالیں۔ اسپیکر کے اس مشورے کے بعد اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اورایوان میں شور شرابہ اور زبردست نعرے بازی شروع کردی، اپوزیشن ارکان کی جانب سے ڈیسک بجا کر بھی احتجاج شروع کردیا گیا۔ وزیر بلدیات سعید غنی نے قائد حزب اختلاف سے کہا کہ آپ نے اپنی بات کرلی ہماری بھی سن لیں۔ فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ 6 ماہ ہوگئے اب تک قائمہ کمیٹیاںکیوں نہیں بنائی گئیں، حیلے بہانے کیے جارہے ہیں،اب ہم ایوان کا بائیکاٹ کریں گے ۔

اس موقع پرایوان میں ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری رہا،اسپیکر اور تحریک انصاف کے اراکین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ اپوزیشن ارکان شور شرابہ اور نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کرگئے تاہم ایم ایم اے اور تحریک لبیک کے چاروں ارکان نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور وہ ایوان میں موجود رہے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ آئین میں کہیں نہیں لکھاکہ پی اے سی اپوزیشن کو دی جائے ، کسی بھی حال میں اپوزیشن کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ نہیں دیں گے۔بعدازاں اپوزیشن رہنماؤں نے سندھ اسمبلی کے میڈیا کارنر پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایوان میں پیپلز پارٹی کے رویے پر سخت تنقید کی۔

قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ یہ اپنی چوریوں سے ڈرے ہوئے ہیں اس لیے پی اے سی اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں،کل سے ہم اپنا اجلاس اسمبلی کے احاطے میں چلائیں گے اور اس مقصد کے لیے محمد حسین کو اسپیکر مقرر کردیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ میں 957ارب کی کرپشن ہوئی ہے یہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں انکشاف ہواہے۔ ایم کیو ایم کے محمد حسین نے کہا کہ سندھ اسمبلی کا اجلاس 9جنوری سے جاری ہے، ہماری شروع سے کوشش تھی کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی بن جائے لیکن پیپلزپارٹی کی متعصب حکومت نے یہ نہیں ہونے دیا۔ جی ڈی اے کے شہریار مہر نے کہا کہ کرپٹ حکومت کے خلاف گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے۔ پریس کانفرنس کے بعد حزب اختلاف کے ارکان نے سندھ اسمبلی کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر احتجاج کیا، اور اعلان کیا کہ منگل سے اپوزیشن ارکان سندھ اسمبلی کا اجلاس احتجاجا سیڑھیوں پر کرینگے۔