پاکستان کا معیاری وقت کیا ہے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر

ہر ٹی وی چینل، ہر ائیرلائن، ہر ٹیلی کام کمپنی اور ہر ادارے کی گھڑیاں الگ الگ وقت بتاتی ہیں


ویب ڈیسک March 06, 2019
پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم یکساں نہ ہونے سے عوام الناس کو ہرسال کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ فوٹوفائل

پاکستان کا معیاری وقت جاننے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔

لاہور ہائی کورٹ میں شہری محمد حسنین نے اپنے وکیل عثمان خلیل ایڈووکیٹ کے توسط سے درخواست دائر کی ہے جس میں ملک میں یکساں وقت کے نفاذ کو یقینی بنانے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

محسن حسنین نے درخواست میں موقف اپنایا کہ ہر ملک کا ایک معیاری ٹائم ہوتا ہے لیکن اکیسویں صدی میں بھی پاکستانی عوام ملک کے اسٹینڈرڈ ٹائم سے ہی لاعلم، ہر شخص اور ادارے کی گھڑیوں میں منٹس، سیکنڈز، ملی سیکنڈز کا فرق پایا جاتا ہے جب کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور پی سی ایس آئی آر کا ذیلی شعبہ پاکستان اسٹینڈرڈر ٹائم کو ڈیل کرتا ہے۔

نیشنل فزیکل اینڈ اسٹینڈرڈ لیبارٹری پابند ہے کہ ملک میں یکساں وقت کی تشہیر کرے جو کہ ملک میں یکساں وقت متعارف کروانے میں ناکام ہوگئی ہے، این پی ایس ایل کی لاپروائی کے باعث ہر ٹی وی چینل، ہر ائیرلائن، ہر ٹیلی کام کمپنی اور ہر ادارے کی گھڑیاں الگ الگ وقت بتاتی ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم یکساں نہ ہونے سے عوام الناس کو ہرسال کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، ہر شخص اور ادارے کی گھڑیوں میں منٹس، سیکنڈز ملی سیکنڈز ،مائیکرو سکینڈز کا فرق پایا جاتا ہے۔