دہشتگردی سے نمٹنے کیلیے موبائل فون سروس معطل نہ کی جائے ٹیلیکام سیکٹر

حکومت کی تبدیلی کے باوجود مسائل برقرار، ٹیکسوں میں اضافے اور رائٹ آف وے کے مسائل کی وجہ سے ریونیو میں کمی کا سامنا ہے


حکومت کی تبدیلی کے باوجود مسائل برقرار،خدمات پر قدغن، ٹیکسوں میں اضافے، بجلی بحران اور رائٹ آف وے کے مسائل کی وجہ سے ریونیو میں کمی کا سامنا ہے۔ فوٹو: فائل

حکومت کی تبدیلی کے باوجود ٹیلی کام انڈسٹری کے مسائل جوں کے توں برقرار ہیں، سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر موبائل فون کی خدمات پر قدغن، ٹیکسوں میں اضافے، بجلی کے بحران کی وجہ سے لاگت میں اضافہ اور رائٹ آف وے کے مسائل کی وجہ سے ٹیلی کام کمپنیوں کو ریونیو میں کمی کا سامنا ہے۔

ٹیلی کام انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق سابقہ حکومت کی طرح سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر موبائل فون سروس کی معطلی کی پالیسی جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے 31جولائی کو بھی ملک کے 10حساس شہروں میں سروس کی جزوی معطلی کی ہدایات جاری کی گئیں جو سابقہ حکومت کی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں کا ماہانہ ریونیو 35ارب روپے ہے، ایک دن سروس کی معطلی سے ایک ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہوتا ہے، جس میں سے حکومت کے ریونیو کا 33فیصد نقصان شامل ہے، سروس کی معطلی سے سماجی رابطوں کے ساتھ کاروباری روابط بھی متاثر ہوتے ہیں جس سے معاشی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ٹیلی کام انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق سروس کی معطلی دہشت گردی کے مسئلے کا ایک عارضی حل ہے، اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے انڈسٹری کی مشاورت سے جامع حکمت عملی اختیا رکرنا ہوگی، تاکہ صارف، معیشت اور انڈسٹری کو نقصان پہنچائے بغیر دہشت گردی کے خطرات سے نمٹا جاسکے۔ انڈسٹری کا کہنا ہے کہ سروس کی معطلی کی پالیسی جاری رہنے کی صورت میں تھری جی ٹیکنالوجی کو بھی قدغن کا سامنا ہوگا، جس سے تھری جی میں کی جانے والی سرمایہ کاری متاثر ہوگی۔



ٹیلی کام انڈسٹری تھری جی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے تاہم انڈسٹری کا مطالبہ ہے کہ تھری جی کے لائسنس کی مناسب فیس مقرر کی جائے اور فیس کی ادائیگی کے لیے بھی سرمایہ کاروں کو سہولت دی جائے تاکہ ٹیلی کام کمپنیاں انفرااسٹرکچر پر سرمایہ کاری کرتے ہوئے تھری جی ٹیکنالوجی کی خدمات صارفین تک پہنچاسکیں تھری جی لائسنس کی نیلامی سے قبل پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کے چیئرمین سمیت تمام آسامیاں میرٹ کی بنیاد پر پیشہ ورانہ مہارت اور تجربے کے حامل افراد سے پر کرنے کے لیے بھی انڈسٹری اپنی آواز حکومت تک پہنچاچکی ہے۔ ٹیلی کام انڈسٹری نائٹ پیکجز پر پابندی کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی میں مصروف عمل ہے انڈسٹری کا موقف ہے کہ ٹھوس وجوہات کے بغیر نائٹ پیکجز پر پابندی صارفین کے بنیادی حق اور اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نائٹ پیکجز ٹیلی کام انڈسٹری کے ریونیو کا بڑا ذریعہ ہیں۔

حکومت کی جانب سے ٹیلی کام سیکٹر پر ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ سے بھی انڈسٹری کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے پاکستان میں ٹیلی کام انڈسٹری کو پہلے ہی ٹیکسوں کی بلند شرح کا سامنا ہے۔ ودہولڈنگ ٹیکس سے ٹیکس وصولیوں میں تو اضافہ ہوگا تاہم ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنے میں ناکامی ہوگی۔ بجلی کا بحران بھی انڈسٹری کا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے ٹیلی کام انڈسٹری کی تنصیبات بالخصوص موبائل ٹاورز کے لیے 24گھنٹے جنریٹر کی بیک اپ سہولت فراہم کرنے کے لیے انڈسٹری کو بھاری سرمایہ کاری کرنا پڑرہی ہے جبکہ بجلی کی آنکھ مچولی اور وولٹیج کے مسائل سے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ بجلی کے بحران سے نمٹنے کیلیے کمپنیوں نے پاور جنریشن مشینری کے ساتھ افرادی قوت اور لاجسٹک میں بھی اضافی سرمایہ کاری کررکھی ہے جس سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔

مقبول خبریں