صفورا چورنگی سعدی ٹائون اور گڈاپ تک خوفناک مناظر

گھروں کی چھتوں پر چڑھے تو ایسا لگا کہ کسی جزیرے میں کھڑے ہیں، مکینوں کے تاثرات


Staff Reporter August 05, 2013
سعدی ٹائون میں سیلابی ریلے کے بعد ریسکیو اہلکار ایک گھر سے بزرگ کو نکال کر کشتی میں سوار کررہے ہیں۔ فوٹو: پی پی آئی

شہر میں ہفتے کی طوفانی بارش نے ہر طرف تباہی پھیلادی، شدید بارشوں اور سیلابی ریلے کے بعد صفورا چورنگی سے سعدی ٹاؤن اور وہاں سے گڈاپ کے دیہات تک تباہی وبربادی کے عبرتباک اور خوفناک مناظر دیکھنے میں آرہے ہیں۔

میٹروپولیٹن سٹی کراچی کا یہ حصہ سیلاب میں بہہ جانے والے پسماندہ دیہات کا منظر پیش کررہا ہے۔ سیلابی ریلے کا پانی صفورا چورنگی سے متصل2 درجن کے قریب رہائشی سوسائٹیز اور گوٹھوں میں داخل ہو گیا۔ شہریوں نے گھروں اورفلیٹوں کی چھتوں پر چڑھ کر اپنی جان بچائی جبکہ لوگوں کی قیمتی گاڑیاں اور سامان سیلابی ریلے میں بہہ گیا ، پانی کا دبائو کئی گھنٹے تک کم نہ ہونے کی وجہ سے متصل علاقوں میں بھی خوف پھیل گیا۔ اس دوران مساجد سے اعلانات کیے جاتے رہے ، سیلابی ریلے کے وجہ سے سیکڑوں افراد نے نقل مکانی کرکے شہر کے دوسرے علاقوں میں رہائش پذیر رشتے داروں کے گھروں میں پناہ لے لی۔

سیلابی ریلا صفورا چورنگی سے متصل2 درجن سے زائد رہائشی سوسائٹیز، فلیٹوں اور گوٹھوں میں داخل ہو گیا جس کے نتیجے میں مہران ٹائون ، سعدی ٹائون ، کے ای ایس سی ایمپلائز سوسائٹی ، امروہہ سوسائٹی ، پریم ولاز، عبداﷲ راہو گوٹھ ، گبول گوٹھ ، سفاری بنگلوز، سنلے بینگلوز اینڈ کاٹیجز، سمیرا بنگلوز ، فاطمہ سن رائز سٹی ،گلشن عمیر ،گل ہاوسز ، آرکیٹڈ سوسائٹی ، گلستان جوہر بلاک8 اور 9 ، بھٹائی آباد اور پہلوان گوٹھ سمیت دیگر سوسائٹی اورگوٹھ زیر آب آگئے۔کئی افراد کی عید تیاری کے سلسلے میں خریدے گئے نئے کپڑے اور دیگر سامان بھی پانی کی نذر ہوگیا ، متعدد گھروں میں عید کے بعد شادی کی تقریبات بھی تھیں جس کی تیاری کے سلسلے میں خریدا گیا سامان بھی سیلابی پانی میں بہہ گیا۔



بیشتر گھروں کی دیواریں گر گئیں ،کسی کے گھر اگرکوئی سامان بچ بھی گیا تو وہ بھی نا قابل استعمال ہوگیا۔ ریلے میں متعدد گاڑیاں بھی بہہ گئیں ، گاڑیاں پانی میں ایسے بہہ رہی تھیں دریا میں کشتیاں پانی کے بہائو پر نظر آتی ہیں ۔ شہریوں نے گھروں کی چھتوں پر پناہ لے کر اپنی جان بچائی اور صورتحال خراب ہونے اور اشیائے خورونوش کی قلت کے باعث علاقہ مکینوں نے بغیر سحری کے روزہ رکھا ، سیلابی صورتحال کے باعث رات کے اندھیرے میں خصوصا خواتین اور بچے خوف کا شکار دکھائی دیئے اور دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ متاثرہ افراد نے ایکسپریس کوبتایاجب انھوں نے گھروں اور فیلٹوں کی چھت پر چڑھ کر صورتحال کا جائزہ لیا تو ہر طرف انھیں پانی ہی پانی دکھائی دیا اور ایسا لگا کہ وہ سمندر میں کسی جزیرے میں کھڑے ہیں۔ رات میں پانی کا بہائو انتہائی شدید تھا ہر چیز پانی میں بہہ گئی۔

لوگوں نے بتایا کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب سیلابی پانی کی سطح6 سے 8 فٹ تک پہنچ گئی تھی جبکہ بعض مقامات پر سیلابی پانی کی سطح اس سے بھی کئی گناہ زیادہ بلند تھی۔ سیلابی پانی سے ڈوبی ہوئی آبادیوں کے مکینوں کی مددکے لیے بلدیہ عظمیٰ اور شہری حکومت کاعملہ غائب رہا جس کے باعث علاقہ مکین آپنی مدد آپ کے تحت اپنا بچا کچا سامان محفوظ مقام پر منتقل کرتے دکھائی دیے۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ ایک تو ان کا گھر پانی ڈوبا ہوا ہے تو دوسری جانب گھر میں پینے کا صاف پانی اور کھانے پینے کی اشیاء کی قلت ہے۔جیسے ہی علاقے میں پانی کی سطح کم ہو جائے گی تو وہ واپس اپنے گھر لوٹ آئیں گے ۔