آسٹریلیا میں اسلام کو ملک سمجھنے والی خاتون امیدوار انتخابی عمل سے باہر

ویب ڈیسک  ہفتہ 10 اگست 2013
اسٹیفنی بینسٹر مسسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید اور حلال وحرام کے فرق  سے بھی نا آشنا  تھیں اور ان کے خیال میں یہودی حضرت عیسیٰٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں، فوٹو:فائل

اسٹیفنی بینسٹر مسسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید اور حلال وحرام کے فرق سے بھی نا آشنا تھیں اور ان کے خیال میں یہودی حضرت عیسیٰٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں، فوٹو:فائل

سڈنی: آسٹریلیا میں اسلام کو ایک ملک اور  یہودیوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کاپیروکار سمجھنے والی ایک خاتون امیدوارنے انتخابات میں حصہ لینے کا اپنا فیصلے تبدیل کر لیا ہے۔

27سالہ اسٹیفنی بینسٹر نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا  کہ میں اسلام کی ایک ملک کے طور پر مخالفت نہیں کرتی مگر میرے خیال میں اسلام کے قوانین کو یہاں آسٹریلیا میں متعارف نہیں کروانا چاہیے،اسٹیفنی بینسٹرکا سیاسی سفر صرف 48 گھنٹوں تک محیط رہا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ان کے انٹرویو کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا جس کے بعد انہیں انتخابات میں حصہ لینے کا اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔

اسٹیفنی بینسٹر مسسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید اور حلال وحرام کے فرق  سے بھی نا آشنا  تھیں اور ان کے خیال میں یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں۔

اسٹیفنی کا کہنا تھا کہ جس طرح نیوز چینل نے میرا انٹر ویو پیش کیا اس کے تحت میں کافی بیوقوف معلوم ہوتی ہوں جس کے لئے  میں اپنی سیاسی جماعت ، دوستوں اور گھر والوں سے ممکنہ شرمندگی کے لیے معافی مانگتی ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔