بندر گاہوں پر موجود کنڈیشنڈ گاڑیاں کلیئرنس کی منتظر

550گاڑیوں پریومیہ 8لاکھ ڈیمریج عائد کیا جاچکا ہے، 4000 گاڑیوں کی شپمنٹ نہ ہونے سے درآمدکنندگان کو اربوں روپے کا نقصان


Ehtisham Mufti April 05, 2019
ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی درآمدات بند ہوتے ہی مقامی اسمبلرز نے ڈالر کی قدر میں اضافے کو جواز بنا کر مختصر مدت میں 3 بار قیمت بڑھائی۔ فوٹو: فائل

حکومت کی جانب سے ایس آراو52 کے تحت نئی شرائط لاگوہونے کے بعد گزشتہ ڈھائی ماہ سے ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی درآمدات بند ہو گئی ہیں جبکہ ڈھائی ماہ قبل درآمد ہونے والی 550 ری کنڈیشنڈ گاڑیاں بندرگاہوں پر کلیئرنس کی منتظر ہیں جن پر یومیہ 8 لاکھ 25 ہزار روپے کے حساب سے کروڑوں روپے کا ڈیمریج عائد کیا جا چکا ہے۔

ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ 15جنوری سے قبل جاپان میں پاکستانی درآمدکنندگان کی جانب سے خریدی گئی 4000 سے زائد گاڑیوں کی شپمنٹ نہ ہونے سے درآمدکنندگان کے اربوں روپے کا سرمایہ ڈوب گیا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے ایس آر او 52 کے ذریعے پرسنل بیگیج، ٹرانسفر آف ریذیڈینس اور گفٹ اسکیم کے تحت 3 سال پرانی گاڑیاں درآمد کرنے کے لیے درآمدکنندہ پر اپنے بیرون ملک اکاؤنٹ سے اپنے پاکستانی اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی ترسیلات زر کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے ڈیوٹی و ٹیکسوں کی ادائیگیاں کرنے کی شرط عائد کی ہے۔

ری کنڈیشنڈ گاڑیاں درآمد کرنے کے خواہشمند اوورسیز پاکستانی مذکورہ شرائط پوری کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کا کہناہے کہ دبئی اور سعودی عرب میں کفیل سسٹم کی وجہ سے 5 ہزار درہم یا ریال سے کم تنخواہوں کے حامل پاکستانیوں کو ان کا کفیل بینک اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت نہیں دیتا اس لیے وہ اپنی ترسیلات زر ایکس چینج کمپنیوںکے توسط سے ارسال کرتے ہیں لیکن وزارت تجارت کے حکام ایکس چین کمپنیوںکے ذریعے بھیجی گئی ترسیلات زر کا ثبوت تسلیم نہیں کررہے ہیں جس کی وجہ سے وہ خواہش کے باوجودری کنڈیشنڈ گاڑیاں درآمد نہیں کر پا رہے ہیں۔

دوسری جانب ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کے ڈیلرز کا موقف ہے کہ پاکستان میں ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی درآمدات سے آٹوموبائل سیکٹر میں صحت مند مسابقت کا رحجان پیدا ہوگیا تھا یہی وجہ ہے کہ ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی درآمدات بند ہوتے ہی مقامی اسمبلرز نے ڈالر کی قدر میں اضافے کو جواز بناکر مختصرمدت میں 3 بار قیمتوں میں اضافہ کر ڈالا ہے۔

انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بنگلہ دیش، سری لنکا کی طرز پر پاکستان میں بھی ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی اجازت دے۔ فی الوقت ری کنڈیشنڈ گاڑیوں پر 98 فیصد تا 352 فیصد ڈیوٹی و ٹیکسز عائد ہیں اگر حکومت ان گاڑیوں کی کمرشل بنیادوں پر درآمدات کی پالیسی متعارف کرائے تو ریونیو کی مد میں قومی خزانے کو قابل ذکر نوعیت کی آمدنی ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں