عزیزآباد اور سائٹ ایریا میں دستی بم حملوں کے مقدمات درج

واقعات میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ملوث ہونے کا شبہ، دھمکیاں دی گئی تھیں ، ذرائع


Staff Reporter August 15, 2013
واقعات میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ملوث ہونے کا شبہ، دھمکیاں دی گئی تھیں ، ذرائع. فوٹو فائل

ISLAMABAD: عزیزآباد اور سائٹ ایریا میں ہونے والے دستی بم حملوں کے مقدمات درج کرلیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعات میں کالعدم تحریک طالبان کے ملوث ہے، تحریک طالبان کی جانب سے اسماعیلی کمیونٹی کو دھمکیاں دی گئی تھیں، پولیس حکام نے اس بات کی نفی کی ہے اور واقعات کو محض خوف وہراس پھیلانا ہی قراردیا ہے، منگل کی شب عزیز آباد کے علاقے کریم آباد میں اسماعیلی جماعت خانے پرنامعلوم ملزمان دستی بم پھینک کرفرار ہوگئے تھے جس کے نتیجے میں ماں بیٹا ہلاک جبکہ 40 زخمی ہوگئے تھے، عزیزآباد پولیس نے واقعے کا مقدمہ الزام نمبر 183/12 درج کرلیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں 2 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے لیکن زخمیوں میں دستی بم حملے کے زخمیوں کی تعداد کم ہے، واقعے کے وقت چونکہ عبادت جاری تھی جس کی وجہ سے بہت زیادہ رش تھا ، پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات شروعکردی ہے اور جلد ہی ملزمان قانون کے کٹہرے میں ہوں گے، علاوہ ازیں واقعے میں ہلاک ہونے والی 27 سالہ شیریں زوجہ سلمان اور ان کے بیٹے 4 سالہ شاہ میرکومنگل کی شام سخی حسن قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔



دریں اثنا سائٹ ایریا کے علاقے میٹروول میں بھی منگل کی شب نامعلوم ملزمان نے اسماعیلی کمیونٹی کے افراد کی رہائشی عمارت پر بھی دستی بم سے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہوگئے،سائٹ اے پولیس نے واقعے کا مقدمہ الزام نمبر 599/13 نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے ، علاوہ ازیں ذرائع نے بتایا کہ واقعات میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ملوث ہونے کا شبہ ہے، تحریک طالبان کے 2 اہم ملزمان کو قتل کے الزام میں سزائے موت کی سزا سنائی گئی تھی جس پر عملدرآمد رواں ماہ کیا جائے گا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ کیس میں عینی شاہد اسما عیلی کمیونٹی سے تعلق رکھتا تھا جس کے بعد سے تحریک طالبان کی جانب سے دھمکیاں دی جارہی تھیں اور منگل کو پیش آنے والے واقعات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

اس سلسلے میں ایک برس قبل تحریک طالبان کی جانب سے آغا خان کمیونٹی کو دھمکی آمیز خط بھی بھیجا گیا تھا جس میں عبادت گاہوں،رہائش گاہوں اوردیگر مقامات کو دھماکوں سے اڑانے اور کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی دھمکیاں دیتے ہوئے دونوں ساتھیوں کے خلاف کیس واپس لینے کا کہا گیا تھا ، اس سلسلے میں ایکسپریس کے رابطہ کرنے پر ایس ایس پی سینٹرل عامر فاروقی نے اس تاثر کی نفی کی، انھوں نے کہا کہ واقعات کا مقصد کمیونٹی میں محض خوف و ہراس پھیلانا تھا ۔