پیٹرول 225 روپے لیٹر اور لیوی کے خاتمے تک دھرنا جاری رہے گا، حافظ نعیم

نوجوان طویل دھرنے کیلیے تیار ہیں، ہم ملک بھر کو جام کردیں گے، دوسرے روز دھرنے کے شرکا سے خطاب


ویب ڈیسک August 17, 2026

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی یہ سوچ رہا ہے ہم دھرنا ختم کر کے گھر چلے جائیں گے تو یہ اُس کی بھول ہے، ملک جام بھی کریں گے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی، لاہور، پشاور میں جماعت اسلامی کے دھرنے کے دوسرے روز مظاہرین سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں حافظ نعیم نے کہا کہ پنجاب میں بھی گورننس ناکام اور اسکول آؤٹ سورس کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کا میئر جو لوگ لے کر آئے حالات کے ذمہ دار وہی ہیں، اگر حالات ٹھیک کرنے ہیں تو گریٹر ڈائیلاگ کا آغاز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ڈاکٹرز لیڈی ہیلتھ ورکرز اساتذہ،سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں، پنجاب میں کسانوں کو بھی تباہ کر کے رکھ دیا گیا، صوبہ ترقی نہیں کررہا بلکہ پستی کی طرف جارہا ہے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ پنجاب میں چند سڑکیں بنانے کے علاوہ کچھ نہیں ہوا، یہ خوف سے بلدیاتی انتخابات نہیں کروا رہے یہ اپنی پارٹی کے افراد سے بھی خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں غربت میں 33 جبکہ پنجاب میں 41 فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم مانو کہ تم اسکولز نہیں چلا سکے، پنجاب میں ایک کروڑ 18 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں حکومت والے لیاقت بلوچ کو فون کر کے کہتے ہیں کمیٹی بنا دی ہے ہم کمیٹی سے بات کرنے کے لیے اسلام آباد نہیں جائیں گے جس نے بات کرنی ہے وہ دھرنے میں آئے اور ہم سے بات کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا دھرنا پیٹرول کی قیمت کم کرنے اور لیوی ختم کرنے تک جاری رہے گا، پیٹرول کی قیمت 225 روپے لیٹر کی جائے عوام کو ریلیف دیا جائے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ پورے پاکستان کے نوجوان طویل دھرنے کے لیے تیار رہیں ہم اپنے مطالبات سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہم ملک گیر ہڑتال بھی کریں گے جبکہ مطالبات کے لیے ملک بھر کو جام کر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ظلم کے خلاف مارچ کی شکل میں اسلام آباد آئے تو حکمرانوں کو بھاگنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکو ہمارے اوپر مسلط ہیں ان کے ہوتے ہوئے حالات درست نہیں ہو سکتے، آئی پی پیز مافیا کو عوام کے خون پسینے سے پالا جا رہا ہے ظلم کی انتہا ہے یہ آئی پی پیز ٹیکس بھی نہیں دیتے حکمران طبقہ سارا ٹیکس طالبعلموں مزدوروں اور مڈل کلاس سے لیا جاتا ہے۔