سیلاب سے بچائو کے لیے منصوبہ بندی کی جائے

سیلاب سے بچائو کے لیے منصوبہ بندی کی جائے!


Editorial July 06, 2012

گزشتہ دو برس ہمارے ملک میں تباہ کُن سیلاب آتا رہا' اب ایک بار پھر مون سون کی آمد آمد ہے اور محکمہ موسمیات کی رپورٹوں کے مطابق امسال معمول سے پندرہ فیصد زائد بارشیں ہونے کا امکان ہے یعنی اس بار پچھلے دو برسوں کی نسبت ممکنہ طور پر زیادہ گمبھیر صورتحال سامنے آ سکتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ دریائوں اور ندی نالوں کے کناروں اور پشتوں کی ٹھیک طور پر ایسی مرمت کی جائے کہ سیلابی پانی باہر نہ بہے اور آبادیاں نہ ڈبوئے' فرض کریں کہ بارشیں بہت زیادہ ہوں اور سیلاب کے آثار پیدا ہو جائیں

اس صورت میں سیلاب کی زد میں آ سکنے والی آبادیوں کے رہائشیوں کے بروقت انخلاء اور ان کے ضروری مال و اسباب کو محفوظ جگہوں پر پہنچانے کا بھی مناسب بندوبست ہونا چاہیے اور یہ انتظام بھی رکھا جانا چاہیے کہ ان کو خوراک اور زندگی کی دیگر ضروریات وافر فراہم کی جاتی رہیں۔ انھی ممکنہ خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں ایک اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی ادارے متوقع سیلاب سے نمٹنے کے لیے پیشگی اطلاع کے موثر نظام، بہتر باہمی رابطہ اور فوری امداد کو یقینی بنائیں۔

انھوں نے کہا کہ بروقت پیشگی اطلاع کے نظام اور بہتر ادارہ جاتی انتظامات سے سیلاب کی تباہ کاریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ رواں سال پیشگی اطلاع ملنے کے بعد زیادہ موثر اور جامع حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔ وزیر اعظم نے وفاق اور صوبوں کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں کو فوری فعال کرنے کی ہدایت بھی کی۔ اب جمعرات کو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ بارشوں اور ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے بہترین انتظامات کیے جائیں، متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح چوکس رہیں' حفاظتی بندوں اور پشتوں کی تعمیر کا کام جلد مکمل کیا جائے۔

انھوں نے ضروری فنڈز ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مری ایکسپریس وے پر مٹی کے تودے گرنے سے بچائو کے لیے مکمل مانیٹرنگ کی جائے اور زیادہ خطرے والے علاقوں میں پٹرول اور ڈیزل کی وافر دستیابی یقینی بنائی جائے۔ ضروری ہے کہ ان معاملات کو محض زبانی جمع خرچ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے ٹھوس انتظامات کیے جائیں۔ گزشتہ دو برسوں میں چونکہ دیگر تینوں صوبوں میں بھی سیلاب نے تباہی مچائی تھی اس لیے ضروری ہے کہ وفاقی کے ساتھ ساتھ چاروں صوبائی حکومتیں بھی اپنی تیاریاں مکمل رکھیں تاکہ مشترکہ کوششوں سے اس قدرتی آفت سے ہونے والی تباہی اور ہلاکتوں کو کم سے کم سطح پر رکھا جا سکے۔ اس کے لیے مناسب ہو گا کہ وزیر اعظم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ تمام انتظامات کا خود جائزہ لیں۔