من مانی خودساختہ جمہوریت

حکومتوں اور اپوزیشن کی خودساختہ جمہوریت اب نجی اداروں اور ایسوسی ایشنوں میں بھی آ چکی ہے


[email protected]

موجودہ اپوزیشن موجودہ حکومت کو جعلی سمجھتی ہے۔ موجودہ اپوزیشن میں پی ٹی آئی حکومت کے دو اپوزیشن لیڈر مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی بھی شامل ہیں جو ضلع پشین بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے جب کہ مولانا فضل الرحمن اپنے آبائی حلقہ ڈی آئی خان سے مسلسل ہار رہے ہیں اور اس کے بعد وہ بنوں سے منتخب ہوئے تھے۔

پی ٹی آئی حکومت کے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں مولانا بھی شامل تھے اور جے یو آئی سمیت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی تحریک انصاف کی 2018ء کی حکومت کو جعلی قرار دیتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں انتخابی نتائج کو مرتب کرتے وقت رات گئے آر ٹی ایس بٹھا کر تحریک انصاف کی جعلی کامیابی کا اعلان کیا گیا تھا جیسے اب پی ٹی آئی اور جے یو آئی موجودہ حکومت کو جعلی قرار دیتے ہیں۔

جماعت اسلامی حسب ماضی آج بھی اپوزیشن میں ہے اور اس کی کوئی قابل ذکر پارلیمانی طاقت بھی نہیں ہے مگر باقی اپوزیشن سے زیادہ حکومت کی مخالفت میںمتحرک ہے مگر پارلیمنٹ میں اس کا ایک رکن بھی نہیں ہے۔ جے یو آئی بھی ملک بھر میں حکومت مخالف جلسے کر رہی ہے اور جب سے بانی نے قومی اسمبلی میں ایک نشست رکھنے والے محمود خان اچکزئی کو خودساختہ تحریک تحفظ آئین کا سربراہ اور بعد میں قومی اسمبلی میں اپنی پارٹی سے اپوزیشن لیڈر بنایا ہے ان کا سیاسی قد بڑھ گیا ہے مگر وہ بھی محدود سیاست کر رہے ہیں اور پی ٹی آئی کے جلسوں میں بھی شرکت نہیں کرتے جس کی وجہ سے ان پر بھی پی ٹی آئی میں تنقید بڑھ رہی ہے جس کو پی ٹی آئی اور خود محمود خان جمہوریت قرار دیتے ہیں۔

ویسے بھی حکومت اور اپوزیشن خود کو بھی جمہوریت کا حسن قرار دیتے ہیں اور اپنی حکومتوں میں اپوزیشن کی راہ میں رکاوٹیں بھی ڈالتے رہے ہیں اور اپنے اس عمل کو بھی جمہوریت ہی قرار دیتے رہے اور اپوزیشن کو سبق بھی سکھاتے رہے ہیں کیونکہ یہ سب اپنی من مانیوں کو بھی جمہوریت ہی کہتے تھے جو ان کی خودساختہ جمہوریت تھی اور آج بھی ہر پارٹی میں من مانیوں کو جمہوریت ہی قرار دیا جاتا ہے مگر ہوتی وہ خودساختہ جمہوریت ہے اور ہر پارٹی جمہوریت کے نام پر اقتدار میں آتی رہی مگر ان کی جمہوریت حقیقت کے برعکس ہوتی ہے اور ہر حکومت اپنی من مانیوں کو جمہوریت قرار دیتی ہے۔

حکومتوں اور اپوزیشن کی خودساختہ جمہوریت اب نجی اداروں اور ایسوسی ایشنوں میں بھی آ چکی ہے۔ ہر تنظیم میں متعلقہ شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد ہی اس کے ممبر بنتے ہیں جیسے تاجر تنظیم میں تاجر ہی اس کے رکن ہوں گے مگر آرٹس کونسلیں ہی ایسے ادارے ہیں جو ثقافتی ترویج و ترقی کے لیے سمجھے جاتے ہیں مگر وہاں کے ممبران میں ایک تعداد غیر ثقافتی لوگوں کی بھی ہوتی ہے اور آرٹس سے وابستہ لوگوں کی تعداد کم ہوتی ہے اور آرٹس کونسلوں کے بڑے عہدوں پر غیر ثقافتی لوگ ہی متکمن رہتے ہیں اور وہ اپنے حامیوں کو آرٹس کونسل میں رکنیت دیتے ہیں کہ وہ فنکار نہ سہی مگر ثقافت سے محبت کرنے والے لوگ ہیں اور ہمیشہ آرٹس کونسلوں کے انتخابات کے موقع پر ہی نظر آتے ہیں۔

آرٹس کونسلوں میں عہدیداروں کو پسند آنے والا اس شرط پر ممبر بن سکتا ہے جس پر برسر اقتدار عہدیداروں کو اعتماد ہو۔ بعض لوگوں سے سننے میں آ رہا ہے کہ آرٹس کونسلوں والا طریقہ کار اب بعض دیگر ایسوسی ایشنوں میں بھی اختیار کر لیا گیا ہے اور ایک ذریعہ کے مطابق ان ایسوسی ایشنوں میں غیر متعلقہ افراد بھی شامل ہوتے ہیں جو الیکشنوں میں ہی نظر آتے ہیں کیونکہ امیدواروں کو جیتنے کے لیے ان کے ووٹ درکار ہوتے ہیں اور ان کے نام انتخابی فہرستوں میں شامل کیے جاتے ہیں جس پر سینئر ممبران کو اعتراض بھی ہوتا ہے ۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ الیکشن میں حصہ لینے والے افراد دوسروں پر دھاندلیوں کے الزامات لگاتے ہیں جیسا اسمبلیوں کے انتخابات کے موقع پر ہوتا آیا ہے۔ہر ایسوسی ایشن کے الیکشن کے بعد ایسا ہوتا آیا ہے کہ ہارنے والے دھاندلی کے الزام لگا دیتے ہیںاور یہ چاہتے ہیں کہ ان کے من پسند نتائج کا اعلان کیا جائے۔ اجلاس میں حکومت پر بھی بلاجواز تنقید کی جاتی ہے۔

ملک بھر میں ایسوسی ایشنیں سیاسی پارٹیوں کی طرح سیاست میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں اور کہا جاتا ہے ان تنظیموں کو عوامی مسائل سے روکنے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے اور ہر حکومت بھی ان الیکشنوں میں اپنے حامیوں کی کامیابی کی کوشش کرتی ہے۔ حقیقت میں عوامی مسائل کے لیے آواز اٹھانا ان ایسوسی ایشنوں کا نہیں بلدیاتی عہدیداروں کا کام ہے مگر ہرتنظیم میں سیاست ملوث ہے اور عہدیدار سیاسی مفاد کے لیے من مانے احتجاج کرتے ہیں اور ان کے مقدمات عدالتوں میں تاخیر پہ تاخیر کا شکار رہتے ہیں۔

سیاسی پارٹیوں کی طرح یہ ایسوسی ایشنز بھی مکمل سیاسی بنی ہوئی ہیں اور ان میں بھی من مانیاں اور خود ساختہ جمہوریت رائج ہے جنھیں حکومت کی طرح عوامی مسائل سے زیادہ اپنے سیاسی مفادات عزیز ہیں اور ہر جگہ جمہوریت کے نام پر من مانیاں کرکے اپنے اصل کاموں پر توجہ نہیں دی جا رہی۔