امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اکسانے اور ورغلانے پر اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی قوانین کو نظر انداز کرکے ایران پر بھرپور حملہ کیا۔ اسی باعث عالمی برادری میں امریکا ایران جنگ کے حوالے سے تشویش ناک اور تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی خواہش اور اپیل کے باوجود امریکی اتحادی ، نیٹو، یورپ اور دیگر ملکوں نے مذکورہ جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے سے انکار کیا جس پر صدر ٹرمپ نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اتحادی ممالک کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
یورپی ممالک کا خیال تھا کہ صدر ٹرمپ ایک بلا وجہ کی جنگ میں الجھ رہے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے نقصانات زیادہ ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے نہ صرف یورپی ممالک کے مشوروں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا بلکہ طاقت کے زعم میں عالمی قوانین اور اصولوں کو پامال کیا بلکہ جنگ کے حوالے سے امریکی قوانین کو پامال کرتے ہوئے ایران پر جنگ مسلط کی جس کے ردعمل میں امریکا کے اندر بھی عوامی اور حکومتی سطح پر گہری تشویش اور تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ بیشتر سرکاری منصب داروں اور فوجی افسران نے اپنی ملازمتوں سے استعفے دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کی جنگی پالیسی کو ہدف تنقید بنایا۔اسرائیلی وزیر اعظم کو یہ خوش فہمی تھی کہ وہ امریکا کے ساتھ مل کر چند روزہ جنگ میں ایران کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے اور وہاں اپنی رجیم تبدیل کر کے اپنی مرضی کی حکومت لے آئیں گے ۔
اس طرح ایران کا کانٹا راہ سے ہٹ جائے گا اور پورے خطے پر اسرائیل کی بالادستی قائم ہو جائے گی اور اس کا گریٹر اسرائیل کا خواب پورا ہو جائے گا۔یہی وہ سوچ تھی کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ کو قائل کیا کہ ایران پر حملہ کر دیا جائے ۔امریکی عوام کی اکثریت نے اس جنگ کی مخالفت کی اور صدر ٹرمپ کو اس جنگ سے باز رکھنے کی کوشش کی مگر صدر ٹرمپ اپنی بات پر اڑے رہے۔شاید ان کا خیال ہو کہ امریکا ایک سپر پاور ہے اور ایران چند روز سے زیادہ اس کے سامنے ٹھہر نہیں پائے گا اور اسے بری طرح شکست ہوگی اور وہ ایران میں رجیم تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اس طرح وہ پوری امریکی قوم کو سرپرائز دیں گے، اور وہ پوری امریکی تاریخ میں ایک طاقتور صدر کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
امریکی قوانین کے مطابق کسی بھی ملک کے خلاف جنگ کا آغاز کرنے کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہوتی ہے لیکن صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرنے کے لیے اپنے ہی ملک کے قوانین کو روند ڈالا۔ چار روز قبل امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداداد منظور کر لی ہے۔
یہ قرارداد ڈیموکریٹ ارکان کی جانب سے پیش کی گئی تھی جو ایران نے 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں سے منظور کی۔ قرارداد کے متن کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہوگی۔ حیرت انگیز طور پر صدر ٹرمپ کی اپنی سیاسی پارٹی ری پبلکن کے 4 ارکان نے بھی اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جو اس امر کا عکاس ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف حملے کے حوالے سے خود ان کی اپنی جماعت کے اندر بھی تحفظات پائے جاتے اور ری پبلکن ارکان بھی جنگ کے حق میں نہیں ہیں جو صدر ٹرمپ کے لیے یقیناً ایک دھچکا ہے۔ انھوں نے ووٹ دینے والے چار ارکان پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں ’’برے ری پبلکن‘‘ قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے ایوان نمایندگان کی منظور کردہ قرارداد کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹ نے ایک ایسے وقت میں قرارداد منظور کی جب ہم ایران کے ساتھ مذاکرات میں حتمی مراحل پر ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹ پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ میری ایک اور کامیابی دیکھنے کی بجائے ملک کو ناکام ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ اگرچہ صورت حال پیچیدہ ہے تاہم بات چیت حوصلہ افزا انداز میں جاری ہے اور جلد ایران کے ساتھ معاہدہ ہو جائے گا۔
صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے میں سنجیدہ بھی ہیں اور غیر سنجیدہ بھی جیساکہ ان کے صبح شام بدلتے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے جب وہ ایسا کوئی بیان یا انٹرویو دیتے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہو کہ اب ایران کے ساتھ جنگ کا کوئی امکان نہیں اور آئندہ چند گھنٹوں میں دو طرفہ معاہدہ ہونے والا ہے تو پوری دنیا کی اسٹاک مارکیٹوں کا انڈیکس جمپ کرکے بلندی کو چھونے لگتا ہے۔
تیل کی بین الاقوامی سطح پر قیمتیں یکدم نیچے آ جاتی ہیں اور مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔ بعینہ جب وہ کوئی ایسا بیان جاری کرتے ہیں کہ جس سے یہ تاثر نمایاں ہوتا ہو کہ امریکا ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کا ارادہ کر رہا ہے تو دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں بیٹھ جاتی ہیں اور تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔
ایسے پریشان کن حالات میں بھی پاکستان اخلاس نیت کے ساتھ ثالثی کا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران معاہدے کے لیے غیر معمولی کوششیں کر رہے ہیں۔ توقع یہی کی جا رہی ہے کہ پاکستان کی ثالثی کی جدوجہد رنگ لائے گی۔
دوسری طرف امریکا ایران کے درمیان کشیدگی پھر عروج کی طرف جا رہی ہے۔ امریکا ایران پر حملے کر رہا ہے تو ایران کی جانب سے کویت میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو جنگ بندی توڑنے کے مترادف ہے۔ امریکا عالمی طاقت اور ٹرمپ عالمی امن کے داعی اور جنگیں رکوانے کے ماہر ہیں۔ انھیں ظرف کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی پر سختی سے معاہدہ طے پانے تک کاربند رہنا چاہیے۔ یہ ممکن نہیں کہ ایران کے خلاف جارحیت بھی جاری رہے اور امن معاہدہ بھی طے پا جائے۔ بقول شاعر حبیب جالب۔
ظلم رہے اور امن بھی ہو
کیا ممکن ہے تم ہی کہو