آئی سی ٹی گورننس ماڈل کیا ممکن ہوسکے گا؟

پاکستان کے فیصلہ سازوں میں بہتر گورننس یا حکمرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے حل کی تلاش پر مباحثہ جاری رہتا ہے


سلمان عابد June 09, 2026
[email protected]

پاکستان کے فیصلہ سازوں میں بہتر گورننس یا حکمرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے حل کی تلاش پر مباحثہ جاری رہتا ہے اور مختلف ادوار میں اس کے مختلف سیاسی اور انتظامی آپشن پر غور بھی ہوتا ہے لیکن سیاسی ،جمہوری اور انتظامی نظام میں سیاسی مہم جوئی کے عمل نے پائیدار ترقی کے عمل کو بہت پیچھے چھوڑدیا ہے ۔ہم وقتی طور پر مصنوعی انداز میں مسائل کے حل کی تلاش کرتے ہیں لیکن جو سنجیدگی اس نظام کی اصلاح کے لیے درکار ہے اس کا واضح فقدان قومی سیاست اور فیصلہ سازی کے عمل میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

اسی طرح ہماری سوچ کا فریم ورک قومی مسائل کے حل کو ایک بڑے فریم ورک میں دیکھنے کی بجائے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی بنیاد پر دیکھتا ہے جس سے ہم بڑی تبدیلی کے عمل میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ گورننس کے بحران کے حل میں ان ہی صفحات پر مجھ سمیت کئی دیگر افراد خود مختار مقامی حکومتوں کا مقدمہ اپنے قلم کی بنیاد پر لڑتے ہیںلیکن حکمران طبقہ چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو اقتدار کی سیاست میں ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں اور وہ اسی پرانی روائتی سوچ اور فکر کے ساتھ حکمرانی کے نظام کو چلا کر بگاڑ کو مزید پیدا کرتے ہیں ۔

حال ہی میں اسلام آباد یعنی آئی سی ٹی میں گورننس کے نئے ماڈل کی بات سامنے آئی ہے ۔کہا جا رہا ہے کہ اسلام آباد میں خود مختار مقامی حکومت یا نظام کے تناظر میں وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی نے 138صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کی ہے جواس نظام کے نئے خدو خال کو نمایاں کرتی ہے ۔کہا جارہا ہے کہ یہ تجویز حکمرانی کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کے ایک جامع اصلاحاتی سطح کی منصوبہ بندی کی عکاسی کرتی ہے ۔

اس کا مقصد منتخب علاقائی حکومت کا قیام جس کا سربراہ وزیر اعلی یا میئر ہوگا،ڈس انٹی گریشن کے خاتمے کو یقینی بنانا ،مربوط اور جامع اسمارٹ سٹی کا قیام،طویل المدتی شہری منصوبہ بندی جیسے امور شامل ہیں ۔البتہ اس میں امن وامان اور ماسٹر سطح کی منصوبہ بندی کے معاملات وفاقی حکومت کے ماتحت ہوں گے ۔کہا جا رہا ہے کہ اس حکومت کے منتخب ارکان کی تعداد 27ارکان پر مشتمل ہوگی اور جسے زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل ہونگے۔اس منصوبہ پر عملدرآمد کے لیے وفاقی حکومت کو متعدد کمیٹیوں کے قیام کی سفارش بھی کی گئی ہے اور ایک قانون ساز کمیٹی قانون تیار کرے گی۔

اس رپورٹ میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ اسلام آباد ایک ناقص منصوبہ بندی کے تحت چل رہا ہے اور یہ اپنی آبادی کے لحاظ سے بڑے شہروں میں تبدیل ہوچکا ہے لیکن ادارہ جاتی ترقی اس رفتار سے نہیں ہوسکی جو ہونی چاہیے تھی ۔کہا جارہا ہے کہ اس طرز کی حکومت کو مکمل سیاسی ،انتظامی اور مالی خود مختاری دی جائے گی جو صوبائی حکومتوں کے مساوی بھی ہوسکتی ہے۔

جب کہ اس منصوبہ کے تحت اسلام آباد کی وفاقی حیثیت برقرار رہے گی۔کہا جا رہا ہے کہ اصلاحاتی پیکیج میں ایک جامع ’’ اسلام آباد کیپیٹل ٹریٹری گورنمنٹ ایکٹ ‘‘ کی تجویز بھی شامل ہے جس کے تحت موجودہ مقامی حکومتوں کے قوانین کو یکجا کرکے ایک واحد قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔اس منصوبہ کا ایک اہم مقصد اسلام آباد کو جدید اسمارٹ شہر ،انسان دوست یا ماحول دوست اور شہری ضروریات کے مطابق بھی ڈھالنا ہے۔اسمارٹ سٹی تین ستونوں پر مشتمل ہے ۔ان میں ماحولیاتی سیاحت، قدرتی وسائل کے تحفظ،قدرتی شہر بنانا،ثقافت اور ورثے کو تحفظ دینا اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا شامل ہے۔

مسئلہ اسلام آباد کا نہیں ہے بلکہ پاکستان کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں اور بالخصوص بڑے شہروں کی گورننس کے نظام کا ہے جن میں ہم لاہور،کراچی، پنڈی،پشاور،کوئٹہ،ملتان، فیصل آباد ، گوجرانوالہ کو دیکھ سکتے ہیں یا وہ شہر جن کی آبادی تقریباً 30لاکھ سے زیادہ ہے ۔دنیا میں جہاں جہاں جدید حکمرانی کا نظام موجود ہے وہاں ہمیں خود مختار مقامی حکومتوں اور بڑے شہروں کا خاص طور پر منفرد اور جامع نظام دیکھنے کو ہی ملتا ہے لیکن کیونکہ ہم نہ تو دنیا سے سیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی خود کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں اس لیے ہم نے عملی طور پر اپنے ملک کو ایک سیاسی سطح کی تجربہ گاہ بنایا ہوا ہے جہاں تواتر کے ساتھ تجربات کرکے ہم پہلے سے موجود نظام کو بھی بگاڑ رہے ہیں ۔ہمارے آئین میں پہلے سے موجود خود مختار مقامی حکومتوں کا نظام موجود ہے جس میں اس نظام کو سیاسی ،انتظامی اور مالی طور پر خود مختاری دینا صوبائی حکومتوں کی آئینی سطح کی ذمے داری بنتی ہے۔

اس وقت ہم اپنے بڑے شہروں کا نظام دیکھ لیے وہ گورننس کے نظام کی بنیاد پر بگاڑ کا شکار ہیں اور صوبائی حکومتوں کی وجہ سے وہاں مرکزیت پر مبنی نظام موجود ہے ۔اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی نہ تو کوئی خواہش ہے اور نہ ہی کوئی جامع حکمت عملی دیکھنے کو ملتی ہے۔خود اسلام آباد میں وفاقی حکومت کئی برسوں سے مقامی حکومتوں کے انتخابات کے انعقاد سے گریز کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کے واضح احکامات کے باوجود وفاقی حکومت اسلام آباد میں آئین سے انحراف کر رہی ہے۔

اس لیے گورننس کا بحران اسلام آباد تک محدود نہیں ہے اور یہ مجموعی طور پر پورے ملک کا بحران ہے۔اس کا ایک علاج وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو باہمی مشاورت کی بنیاد پر اتفاق رائے سے تلاش کرنا ہوگا۔صرف اسلام آباد ہی نہیں پورے ملک کے بڑے چھوٹے شہروں کو اسمارٹ شہروں اور بہترین سہولتوں کے ساتھ مزین کرنا ہوگا کیونکہ یہ اس نظام میں ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ اس کو اس نظام کی موجودگی میں بہتر سے بہتر سہولتیں مل سکیں ۔بالخصوص تعلیم، صحت ،روزگار ،ماحول اور صفائی سمیت انصاف کا ملنا سب کا حق ہے۔

وفاقی حکومت اس نظام کو ضرور اسلام آباد سے پہل کرے لیکن ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کو پابند کرے یا ان پر دباؤ ڈالے کہ بہتر گورننس کے لیے وہ بھی اپنے صوبوں اور اضلاع میں غیر معمولی اقدامات اٹھائیں اور اس کی ایک بڑی شکل خود مختارمقامی حکومتوں کے نظام کی تشکیل سے جڑی ہوئی ہے ۔جب تک ہم اپنے نظام میں بیوروکریسی کے تسلط میں توازن پیدا نہیں کریں گے اسلام آباد سمیت جتنے بھی شہری ترقی کے منصوبے آپ لے آئیں وہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکیں گے ۔کیونکہ یہ جو عوامی منتخب نمائندوں اور بیوروکریسی کے نظام میں عدم توازن ہے یہ بھی معاملات کو بگاڑ رہا ہے۔

دیکھنا ہوگا کہ جو منصوبہ اسلام آباد کی خود مختار مقامی حکومتوں کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے اس پر وہاں کی مضبوط بیوروکریسی کیا ردعمل دکھاتی ہے یا اس کی شکل کس حد تک بدلتی ہے جو اس کی اصل حالت کو ہی بدل دے ۔دوسرا چیلنج خود قومی اور صوبائی سطح کے ارکان اسمبلی ، وفاقی یا صوبائی حکومتیں ہیں جو براہ راست خود مختارمقامی حکومتوں کی سیاسی،انتظامی اور مالی خود مختاری کو ہی اپنے لیے بڑا چیلنج سمجھتی ہیں ۔اس لیے اسلام آباد یا دیگر شہروں کی سطح پر یا پورے ملک میں مقامی حکومتوں کی خود مختاری آسان کام نہیں اور یہ ایک بڑی سیاسی جدوجہد کا تقاضہ کرتا ہے۔

اصل مسئلہ ہماری سیاسی ترجیحات کا ہے اور جب خود سیاسی جماعتیں اپنی داخلی سیاست یا جماعت کی سطح پر اصلاحات کے لیے تیار نہ ہوں تو ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا عمل کیسے ممکن ہوسکتا ہے ۔کیونکہ جب ہم نے عملاً طے کر رکھا ہے کہ ہم ہر صورت میں اختیارات کے ارتکازکو اپنی ذات تک محدود رکھنا چاہتے ہیں تو پھر تبدیلی کا عمل اور زیادہ مشکل ہوجاتا ہے ۔نظام کی اصلاح کے لیے منصوبے تیار کرنا،ڈرافٹ تیار کرنا اہم بات ہے او راس پر بحث ومباحثہ کی بات بھی اہمیت رکھتی ہے لیکن جب تک سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کی سطح پر گورننس کے نظام کی اصلاح اور جدید طرز کے ماڈل کو اختیار نہیں کیا جاتا جہاں وہ خود بھی جوابدہ ہوں تو کیسے ہم عملاً آگے بڑھ سکیں گے۔نظام میں سیاسی ،انتظامی ڈھانچہ جتنا چھوٹا ہوگا اتنا ہی حالات بہتر ہوسکتے ہیں اور وسائل کا ضیاع بھی نہیں ہوگا۔لیکن ہماری ترجیحات میں ایک طرف بڑا سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ اور دوسری طرف پورے پاکستان میں وسائل کی غیر مصفانہ تقسیم کا کھیل دیکھنے کو ملتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلام آباد میں پہلے سے موجود سی ڈی اے،ایم سی آئی اور آئی سی ٹی جیسے ادارے اس منتخب مقامی حکومتی کنٹرول میں ہونگے یا اس پر وفاقی حکومت سمیت بیوروکریسی کا ہی کنٹرول ہوگا۔اسی طرح دیگر صوبوں میں جو صوبائی حکومتوں کے ماتحت براہ راست کمپنیوں اور اتھارٹیوں کا ماڈل چل رہا ہے اسی کو لے کر آگے چلنا ہے یا اس کو بھی وفاقی نظام ہی کنٹرول کرے گا کیونکہ اگر ہماری ترجیحات میں نظام کے تناظر میں تضادات پر مبنی سوچ ہوگی تو پھر نظام کا یہ کھیل سوائے بگاڑ کے کچھ اور نہیں دے سکے گا۔بالخصوص اسلام آباد کی مضبوط بیوروکریسی کسی بھی صورت میں وہاںکے نظام پر اپنا کنٹرول کمزور نہیں کرے گی۔