کرپشن کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت

کرپشن کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت


Editorial July 06, 2012

چیئرمین نیب ایڈمرل (ر) فصیح بخاری نے نیب ہیڈکواٹرز میں 17ویں دو روزہ ڈی جیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بالکل درست بات کہی ہے کہ شفافیت کے اصول اختیار کر کے سب کو احتساب کے دائرے میں شامل کیے بغیر ملک میں اچھی حکمرانی اور معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس ہمارے ملک میں کرپشن بہت زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم تاحال اچھی حکمرانی اور معاشی ترقی کے صرف خواب ہی دیکھ رہے ہیں' ان کی تعبیر دور دور تک نظر نہیں آتی۔

آزادی کے چونسٹھ پینسٹھ برس گزارنے کے باوجود ہم اگر ترقی کی دل خواہ منزلیں طے نہیں کر سکے ہیں تو اس کی وجہ اوپر سے نیچے تک سب کو احتساب کے دائرے میں نہ لانا ہے' یہاں حکمران طبقہ ایسی مقدس گائے بنا ہوا ہے جس کا احتساب تو دور کی بات اس پر انگلی اٹھانا بھی گناہ تصور کیا جاتا ہے حتیٰ کہ کسی حکومت کی پالیسی کی وجہ سے ملک کو حربی یا اقتصادی لحاظ سے نقصان پہنچتا تھا تو اس پر بھی باز پُرس نہیں ہو سکتی تھی' یہی وجہ ہے کہ جس محکمے یا ادارے کے معاملات کو اٹھا کر دیکھیں اور ذرا گہرائی تک ان میں جھانکیں تو بدمعاملگیوں اور معاشی ہیرپھیر کی نئی نئی کہانیاں ملتی ہیں لیکن کوئی ان فیصلہ سازوں کو پوچھنے والا نہیں کہ جس مقصد کے لیے انھیں رکھا گیا وہ آخر کیوں پورا نہیں ہوا۔

اسی بنا پر پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے پچھلے دنوں قرار دیا کہ کرپشن اور سکیورٹی ایشوز پاکستان کے سب سے بڑے مسائل ہیں جب کہ چیئرمین نیب نے تقریباً ایک ہفتہ قبل سینئر میڈیا نمایندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں قومی خزانے کی روزانہ 6 سے 8 ارب کرپشن ہو رہی ہے۔ جس ملک میں روزانہ اتنی زیادہ کرپشن ہو رہی ہو اس کے مالی حالات ہماری طرح کے ہی ہو سکتے ہیں کہ ہمیں ہر سال خسارے کے بجٹ تیار کرنا پڑتے ہیں' ترقیاتی کاموں کے لیے وافر رقوم دستیاب نہیں ہوتیں' تعلیم اور صحت کے اہم ترین شعبوں کے لیے مناسب رقوم دستیاب نہیں ہیں حتیٰ کہ عوام کو زندگی کی بنیادی ترین سہولتیں فراہم کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔

چیئرمین نیب نے یہ بھی ٹھیک کہا ہے کہ کرپشن صرف ہمارا داخلی معاملہ نہیں بلکہ عالمی حقیقت ہے جو تمام معاشروں اور حکومتوں میں مسئلہ بن چکا ہے' کرپشن دوسرے ممالک میں بھی موجود ہے چنانچہ کیا ہی اچھا ہو کہ اس کے خلاف عالمی سطح پر اقدامات عمل میں لائے جائیں بہرحال عالمی سطح پر اقدامات ہوں یا نہ ہوں ملکی سطح پر اس بارے میں ضرور کچھ کیا جانا چاہیے۔ اس حوالے سے چیئرمین نیب کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے احتساب سب کے لیے لازمی اصول بنانا ہو گا۔