موبائل سمیں غیر قانونی طور پر ایکٹو کرنیوالے گروہ کے 7 کارندے گرفتار

قبضے سے1700سمیں، ہزار فنگرپرنٹس،2600 افرادکے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپیز،3100 ایکٹوسمزجیکٹس ودیگراشیابرآمد


Staff Reporter April 24, 2019
ملزمان دہشت گردی، بھتہ خوری،اغوا برائے تاوان ودیگرجرائم میںسہولت کاری کر رہے تھے،انچارج سی ٹی ڈی راجا عمرخطاب۔ فوٹو: ایکسپریس

سی ٹی ڈی پولیس نے موبائل فون کی سموں کوغیرقانونی طورپرکارآمد بنانے والے گروہ کے7 کارندوں کوگرفتارکرلیا جب کہ 3 ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

انچارج سی ٹی ڈی راجا عمرخطاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایاکہ کاؤنٹرٹیراریزم ڈپارٹمنٹ نے کینٹ اسٹیشن کے قریب سے موبائل فون سموں کوغیر قانونی طور پرکار آمد بنانے والے گروہ کے7 کارندے محمد رضوان احمد، عرفان عاشق ، کاشف جاوید ،انجم ظہور،مزمل تبسم ،وقاص احمد، محمد ریحان کو گرفتارکر لیاجبکہ گرفتارملزمان کے 3 ساتھی حمیر افضل ، کامران عرف مانا اورغسان فرارہو گئے۔

ملزمان کے قبضے سے 6 لیپ ٹاپ،12 موبائل فونز کمپنی اسکینرز،3 بائیو میٹرک مشینز،400 این جی اوفارمز،2 سادہ سلی کون کی پٹیاں ، 1لائٹ باکس براے فنگر پرنٹس،مختلف نیٹ ورک کی 1700 سمز،سلی کون پرلیے گئے1000 فنگرپرنٹس،3 بینک اسکینرز، 2600 مختلف افراد کے نقول قومی شناختی کارڈ،8 صفحات پر مشتمل ثبت شدہ نشانات،اور انگھوٹھے کا ٹریسنگ پیپرز، 1 کمپیوٹر اسکینر، مختلف نیٹ ورک کی 3100 ایکٹو سمزجیکٹس برآمدکرلی۔

انھوں نے بتایا کہ چینی قونصل خانے پرحملے اور بڑی دہشت گردی کی کارروائیوں کی تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ جرائم پیشہ افراد جو سمز استعمال کرتے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی بے گناہ شہری کے نام پر جاری کی گئی ہے جبکہ گرفتار ملزمان کا گروہ اپنے ایجنٹ کے ذریعے پاکستان ڈس ایبل ڈیولپمنٹ کونسل پاکستان نامی این جی او کا فارم شہریوں میں سادہ لوح لوگوں سے پر کرواکر ان کے شناختی کارڈ انگوٹھے کے نشان حاصل کرتا اورپھر دھوکا دہی اورجعلی طور پر انگھوٹھے کانشان اسکین کر کے کمپیوٹرپرمنتقل کرتے ہیں اورپھر بائیو میٹرک سمزایکٹویشن ڈیوائس کے ذریعے موبائل فونز سمز ایکٹو کرکے مہنگے داموں جرائم پیشہ افراد کو فروخت کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایاکہ گروہ کے افراددہشت گردی،قتل،اغوا برائے تاوان ،بھتہ،گرے ٹریفک جسے سنگین جرائم میں سہولت فراہم کرتے ہیں ،گھناؤنے کاروبار کی روک تھام کیلیے پی ٹی اے اور ایف آئی اے سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔