مزارِ قائد کے اطراف کچرا اور تعمیراتی ملبہ پھینکنے کی روک تھام کا فیصلہ

مزارِ قائد ہماری قومی شناخت اور ورثے کی علامت ہے، وزیراعلیٰ سندھ


ویب ڈیسک July 13, 2026

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی کے درمیان مزارِ قائد اور نیشنل لائبریری کے امور پر اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں قومی ورثے کے تحفظ اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اجلاس میں کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری ٹو سی ایم آصف جمیل، سیکریٹری ثقافت خیر محمد کلوڑ سمیت دیگر صوبائی افسران شریک ہوئے، جبکہ وفاقی وزیر کے ہمراہ ڈائریکٹر جنرل نیشنل لائبریری آف پاکستان، ریزیڈنٹ انجینئر، سیکریٹری قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ علیم خان اور قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔

اجلاس میں مزارِ قائد کے اطراف تجاوزات، صفائی، سکیورٹی اور دیکھ بھال کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مزار کے گرد غیر قانونی کچرا اور تعمیراتی ملبہ پھینکنے کی روک تھام، منشیات فروشوں اور شرپسند عناصر کے باعث پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات کے تدارک اور شہریوں و سیاحوں کے لیے سہولیات بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں لائنز ایریا اور خداداد کالونی سے ملحق علاقوں میں تجاوزات کے خاتمے، سکیورٹی مزید مؤثر بنانے اور وسائل کی فراہمی پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کو قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کی آئینی ذمہ داریوں اور انتظامی امور پر بریفنگ دی گئی، جس کے مطابق بورڈ 132 ایکڑ پر محیط مزارِ قائد اور اس کے اطراف کے علاقے کے تحفظ، مرمت، ترقی اور انتظام کا ذمہ دار ہے۔

دوسری جانب نیشنل لائبریری آف پاکستان کے کراچی ریجنل آفس کے انتظامی مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کی فراہمی اور دیگر سہولیات کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا۔ لیاقت میموریل لائبریری اور نیشنل لائبریری کے درمیان انتظامی معاملات کے حل کے لیے قانونی طریقہ کار اپنانے پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ ریجنل کاپی رائٹ ڈپازٹری اور کراچی آفس کی توسیع سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مزارِ قائد اور عوامی لائبریریاں قومی اثاثے ہیں جن کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزارِ قائد ہماری قومی شناخت اور ورثے کی علامت ہے اور سندھ حکومت اس کے تحفظ، دیکھ بھال، خوبصورتی اور سکیورٹی کے لیے مکمل تعاون جاری رکھے گی۔

وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن ثقافتی اداروں کے تحفظ اور ترقی کے لیے پرعزم ہے اور مزارِ قائد کے اطراف تجاوزات، ماحولیاتی مسائل اور سکیورٹی چیلنجز کے حل کے لیے مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے سندھ حکومت سے نیشنل لائبریری کی اصلاحات اور کراچی میں ریجنل کاپی رائٹ ڈپازٹری کے قیام میں تعاون کی درخواست بھی کی۔

اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مسلسل رابطے اور باہمی اتفاق سے تمام زیرِ التوا معاملات حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔